باب : رات کی نماز

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے اور سوتے ہوئے دیکھنا نہ چاہتے تھے مگر دیکھ لیتے تھے ۱؎(نسائی)

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِماً إِلَّا رَأَيْنَاهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1208 ، باب : رات کی نماز

روایت ہے حضرت حمید ابن عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے سوچا حالانکہ میں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا کہ قسم خدا کی میں نماز کے لیئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکوں گا ۱؎حتی کہ آپ کا عمل دیکھ لوں تو جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے عشاء یعنی عتمہ پڑھ لی تو کافی رات لیٹے رہے ۲؎پھر جاگے تو کنارہ آسمان میں نظر فرمائی،پھر کہا مولا تو نے اسے بے کار نہ بنایا حتی کہلَاْ تُخْلِفُ الْمِیْعَادتک پہنچ گئے ۳؎پھر اپنے بستر کی طرف جھکے وہاں سے مسواک نکالی پھر اسے برتن سے جو آپ کے پاس رکھا تھا پانی پیالے میں انڈیلا ۴؎پھر مسواک کی پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھتے رہے ۵؎حتی کہ میں نے سوچا کہ آپ نے سونے کی بقدر نماز پڑھ لی پھر لیٹ گئے حتی کہ میں نے کہاآپ بقدر نماز سولیئے پھر بیدا ہوئے تو جیسا پہلی بار کیا تھا ویسا ہی کیا اور جو پہلے فرمایا تھا ویسا ہی فرمایا ۶؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فجر سے پہلے یہ کام تین بار کیا۔(نسائی)

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللهِ لَأَرْقَبَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ حَتّٰى أَرٰى فِعْلَهٗ فَلَمَّا صَلّٰى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ فَقَالَ: (رَبنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلاً)حَتّٰى بَلَغَ إِلٰى (إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ)ثُمَّ أَهْوٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى فِرَاشِهٖ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهٗ مَاءً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى حَتّٰى قُلْتُ: قَدْ صَلّٰى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰى قُلْتُ قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلّٰى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1209 ، باب : رات کی نماز

روایت ہے حضرت یعلی ابن مملک سے کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ تمہیں ان کی نماز سے کیا نسبت ۱؎آپ نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے پھر سونے کے بعد بقدر نماز پڑھتے تھے پھر نماز کے بقدر سوتے تھے حتی کہ صبح کرتے ۲؎پھر آپ کی قرأت بیان کی تو ایسی قرأت بیان کرنے لگیں ایک ایک حرف صاف جدا ۳؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

وَعَنْ يَعْلیٰ بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّهٗ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهٖ؟ فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ؟ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلّٰى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلّٰى حَتّٰى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهٗ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1210 ، باب : رات کی نماز