- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : نماز کے بعد ذکر
باب : نماز کے بعد ذکر
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نماز ختم ہونا تکبیر سے پہچانتا تھا ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 959 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت عائشہ رضی الله عنھا سےفرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نہ بیٹھتے مگر صرف اس قدر کہ کہتے کہ الہی تو سلام ہے اور تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال وبزرگی والے۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَالِ وَالْإِكْرَامِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 960 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت ثوبان رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور کہتے الٰہی تو سلام ہے تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلالت اور بزرگی والے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَالِ وَالْإِكْرَامِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 961 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم ہر فرض کے بعد فرماتے تھے ۱؎خدا کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے حمد، وہ ہر چیز پر قادر ہے الٰہی جو تو دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور تیرے مقابل مال دار کو مال نفع نہیں دیتا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْك الْجَدُّ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 962 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت عبد الله ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب اپنی نماز سے سلام پھیرتے ۱؎تو بلند آواز سے کہتے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کے لیے حمد اور وہ ہر چیز پر قادر ہے الله کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قدرت الله کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اسی کی نعمت ہے اسی کا فضل ۲؎اسی کی اچھی تعریف ہے الله کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے لیے خالص دین رکھتے ہیں اگرچہ کفار ناپسند کریں۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهٖ يَقُولُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلیٰ : « لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 963 ، باب : نماز کے بعد ذکر
رو ایت ہے حضرت سعد سے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے ۱؎اور کہتے تھے کہ رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم نماز کےبعد ان سے تعوذ کرتے تھے الٰہی میں بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور کنجوسی سے تیری پناہ۲؎اور ردی عمر سے تیری پناہ۳؎اور دنیا کے فتنوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۴؎(بخاری)
وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّہٗ كَانَ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْن وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 964 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے ۱؎فرمایا یہ کیسے؟ عرض کیا جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے کہ ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ۲؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس سے تم آگے والوں کو پکڑلو اور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ۳؎اور تم میں سے کوئی افضل نہ ہو اس کے سوا جو تمہارے کام کرے۴؎بولے ہاں یارسول الله فرمایا ہر نماز کے بعد۳۳،۳۳بار تسبیح،تکبیر اور حمدکرو ۵؎ابو صالح کہتے ہیں ۶؎کہ پھر مہاجر فقراءحضور انورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور عرض کیا کہ ہمارے اس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سن لیا تو انہوں نے بھی یونہی کیا ۷؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ الله کا فضل ہے جسے چاہے دے ۸؎ (مسلم، بخاری)ابو صالح کا قول صرف مسلم کی روایت میں ہے اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ہر نماز کے بعد دس بار تسبیح ،دس بار حمد، دس بار تکبیر کہو بجائے ۳۳ بار کے ۹؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: (إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهٖ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهٖ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» . قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «ذٰلِك فَضْلُ اللهِ يُؤْتِیْهِ مَنْ يَشَاءُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَيْسَ قَوْلُ أَبِي صَالِحٍ إِلٰى اَخِرِهٖ إِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا » . بَدْلَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 965 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بعض آگے پیچھے آنے والی چیزیں ۱؎وہ ہیں جن کا کہنے والا یا کرنے والا نقصان میں نہیں رہتا۲؎ہر فرض نماز کے بعد۳۳ بارتسبیح ۳۳ بار حمد اور۳۴ بار تکبیریں ۳؎(مسلم)
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ:ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 966 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ )رضی الله عنہ( سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو ہر نماز کے بعد ۳۳بارتسبیح ۳۳بار حمدالٰہی اور۳۳بارتکبیر کہہ لیا کرے یہ ۹۹ ہوئے اور سو پورا کرنے کو کہے الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی حمد ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے گناہ بخشے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ کی طرح ہوں ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 967 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎فرمایا عرض کیا گیا یا رسول الله کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ فرمایا آخری رات کے بیچ میں اور فرض نماز کے بعد ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ قَالَ: «جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ وَدُبْرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوْبَاتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 968 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعداعوذوالی سورتیں پڑھ لیا کرو ۱؎(احمد،ابوداؤد،،نسائی،بیہقی ،دعوات کبیر )
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوَّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ احْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 969 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کہ میرا ان لوگوں سے بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک الله کا ذکر کرتے ہیں مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ اولاد اسماعیل کے چار غلام آزاد کروں ۱؎اور میرا اس قوم کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک الله کا ذکر کریں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ چار غلام آزاد کردوں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 970 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو فجر جماعت سے پڑھے پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر الله کا ذکر کرے ۱؎پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا ۲؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پورے کا پورےکا پورے کا ۳؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللهَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهٗ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» . قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 971 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت ازرق ابن قیس سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو ہمارے امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہی نماز یا اس کی مثل کوئی اور نماز رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ۲؎فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر اگلی صف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے داہنے کھڑے ہوتے تھے۳؎اور ایک شخص نماز کی پہلی تکبیر میں حاضر ہوا تھا نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر داہنے بائیں سلام پھیرا حتی کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۴؎پھر ابو رمثہ یعنی میرے طرف پھرے ۵؎تو جس نے نماز کی پہلی تکبیر پائی تھی وہ نفل پڑھنے کھڑا ہوگیا ۶؎تب حضرت عمر جلدی اٹھے اور اس کے کندھے پکڑکر ہلائے پھر فرمایا بیٹھ جا ۷؎کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ تھا ۸؎نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے الله تمہیں مصیب رکھے ۹؎(ابوداؤد)
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلّٰى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكَنّٰى أَبَا رَمْثَةَ قَالَ صَلَّيْتُ هٰذِهٖ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هٰذِهٖ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهٖ وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلّٰى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهٖ وَعَنْ يَسَارِهٖ حَتّٰى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رَمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهٗ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمِنْكَبَیْهِ فَهَزَّهٗ ثُمَّ قَالَ اجْلِسْ فَإِنَّهٗ لَن يَهْلِكَ أَهلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ. فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصْرَهٗ فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 972 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد۳۳بارتسبیح پڑھیں۳۳بارحمد اور۳۴بارتکبیر پھر ایک انصاری کے خواب میں کوئی آنے والا آیا اور آپ سے کہا کیا تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد اتنی اتنی تسبیح پڑھو۔انصاری نے خواب ہی میں کہا ہاں اس نے کہا انہیں ۲۵،۲۵بار کرلو اور ان میں تہلیل بھی کرلو ۲؎جب صبح ہوئی تو یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں خبر دی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسےبھی کرو۳؎(احمد نسائی،دارمی)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهٗ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن تسبحوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي مَنَامِهٖ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «فَافْعَلُوْا» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 973 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو اس منبر کے تختوں پر فرماتے سنا کہ جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے تو اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت کے داخلے سے نہ روکے گی ۱؎اور جو بستر پر لیٹتے وقت اسے پڑھ لے تو الله اس کے گھر اور اس کے پڑوسی کے گھر آس پاس کے گھر والوں پر امن دے گا ۲؎(بیہقی ،شعب الایمان )فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے ۳؎
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ ٰ أَعْوَادِ ھٰذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَهٗ آمَنَهُ اللهُ عَلیٰ دَارِهٖ وَدَارِ جَارِهٖ وَأَهْلِ دُوَيْرَاتٍ حَوْلَهٗ » . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ وَقَالَ إِسْنَادُهٗ ضَعِيفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 974 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو نماز مغرب و فجر سے پھرنے اور پاؤں موڑنے سے پہلے ۱؎دس بار یہ کہہ لیا کرے الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف اس کے قبضے میں خیر ہے زندگی اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۲؎تو اس کے لیے ہر ایک کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ مٹائے جائیں گے اور دس درجے بلند کیے جائیں گے۳؎ہر برائی سے اس کی حفاظت اور مردود شیطان سے امن ہوگی اور شرک کے سوا کوئی گناہ اسے نہ چھو سکے گا۴؎اور وہ لوگوں سے عمل میں افضل ہوگا سوا اس کے جو اس سے زیادہ کہہ لے وہ اس سے بڑھ جائے گا ۵؎(احمد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيُثْنِيَ رِجْلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهٗ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَت لَهٗ حَرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحَرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم وَلَمْ يُحِلَّ لِذَنْبٍ اَنْ يُّدْرِكَهُ الا الشِّرْكُ وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهٗ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 975 ، باب : نماز کے بعد ذکر
ترمذی نے اس کی مثل ابوذر سےالاالشركتک اور اس نے نہ نماز مغرب کا ذکر کیا اور نہبیدہ الخیرکا اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۱؎
وَرَوَى التِّرْمِذِيْ نَحْوَهٗ عَنْ أَبِي ذَرٍّ إِلٰى قَوْلِهٖ: «إِلَّا الشِّرْكَ» وَلَمْ يَذْكُرْ: «صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَلَا بِيَدِهِ الْخَيْرُ» وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 976 ، باب : نماز کے بعد ذکر
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی الله عنہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا وہ بہت غنیمتیں لائے اور جلد لوٹ آئے ۱؎تو ہم میں سے ایک شخص بولا جو ان میں نہ گیا تھا کہ ہم نے کوئی ایسا لشکر نہ دیکھا جو اس لشکر سے جلد لوٹا ہو اور زیادہ غنیمت لایا ہو ۲؎تب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ قوم نہ بتاؤں جو غنیمت اور لوٹنے میں بہتر ہے وہ قوم ہے جو فجر کی نماز میں حاضر ہوں پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اس کا ذکر کریں یہ لوگ جلدی لوٹنے والے اور بہتر غنیمت والے ہیں ۳؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے حماد ابن ابی حمید راوی حدیث میں ضعیف ہیں۴؎
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنَمُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّا لَمْ يَخْرُجْ مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ رَجْعَةً وَلَا أَفْضَلَ غَنِيمَةً مِنْ هٰذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلیٰ قَوْمٍ أَفْضَلَ غَنِيمَةً وَأَفْضَلَ رَجْعَةً قَوْمًا شَهِدُوا صَلَاةَ الصُّبْحِ ثمَّ جَلَسُوا يَذْكُرُونَ اللّٰهَ حَتّٰى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأُولَئِكَ أَسْرَعُ رَجْعَةً وَأَفْضَلُ غَنِيمَةً».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَحَمَّادُبْنُ أَبِيْ حُمَيْدِالرَّاوِیُّ هُوَضَعِيفٌ فِي الحَدِيْثِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 977 ، باب : نماز کے بعد ذکر