باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے نیک کار تو اس لیئے کہ شاید وہ نیکیاں بڑھالے اور بدکار اس لیئے کہ شاید وہ توبہ کرے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَتَمَنّٰی أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَهٗ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَهٗ أَنْ يَسْتَعْتِبَ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1598 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ موت کی آرزو کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے ۱∞؎کیونکہ جب وہ مرجائے گا تو اس کی امیدیں ختم ہوجائیں گی اور مؤمن کی عمر بھلائی ہی بڑھاتی ہے ۲؎(مسلم)

وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَتَمَنّٰى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهٖ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهٗ إِنَّهٗ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ أَمَلُهٗ وَإِنَّهٗ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ الا خَيْرًا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1599 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکوئی آئی ہوئی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمنا نہ کرے پھر اگر کرنا ہی پڑ جائے تو یوں کہے الٰہی جب تک میرے لیئے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهٗ فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِيْ وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1600 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو الله سے ملنا چاہتاہے الله اس سے ملنا چاہتاہے اور جو الله سے ملنا نہیں چاہتا الله اس سے ملنا نہیں چاہتا الله اس سے ملنےکو ناپسند کرتاہے ۱∞؎تب حضرت عائشہ یاحضور کی بعض بیویوں نے کہا کہ ہم تو موت سے گھبراتی ہیں۲؎تو فرمایا کہ یہ مطلب نہیں لیکن جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اسے الله کی رضا اور اسکے احترام کی بشارت دی جاتی ہے تب اسے کوئی چیز اگلے جہان سے پیاری نہیں ہوتی اس پر وہ الله سے ملنا چاہتاہے الله اس سے ملنا چاہتا ہے۳؎اور کافرکو جب موت حاضرہوتی ہے تو اسے الله کے عذاب و سزا کی خبردی جاتی ہے تب اسے اگلے جہان سے زیادہ کوئی شے ناپسند نہیں ہوتی لہذا وہ الله سے ملنا ناپسندکرتا ہے اور الله اس سے ملنا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهٗ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهٗ” فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهٖ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: “لَيْسَ ذٰلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللهِ وَكَرَامَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهٗ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ وَأَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهٗ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَعَقُوْبَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهُ اليْهِ مِمَّا أَمَامَهٗ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللهِ وَكَرِهَ اللهُ لِقَاءَهٗ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1601 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

اورحضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ موت الله کے ملنے سے پہلے ہے ۱∞؎

وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ: “وَالْمَوْتَ قَبْلَ لِقَاءَ اللهِ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1602 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے وہ بیان کیاکرتے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پرایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا کہ یا اس سے راحت حاصل کی گئی ۱∞؎یا راحت پاگیا لوگ بولے یارسول الله راحت پانے والے اور اس سے چھوٹنے والے سے کیا مطلب فرمایا کہ یہ بندہ مؤمن دنیا کی تکلیف اور اذیتوں سے چھوٹ کر الله کی رحمت میں جاتا ہے۲؎اور بدکار بندے سے انسان، شہر، درخت اور جانور سب ہی راحت پاتے ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهٗ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: “مُسْتَرِيحٌ أَوْ مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ” فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْمُسْتَرِيْحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: “الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلٰى رَحْمَةِ اللهِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يستريح مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1603 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑکر فرمایا دنیا میں یوں رہو گویا تم مسافر ہو یا راستہ طے کرنے والے ہو ۱∞؎حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ جب تم شام پالو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح پالو تو شام کی امید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیئے اور زندگی سے موت کے لیئے کچھ توشہ لے لو۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ: “كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ” . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1604 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو آپ کی وفات سےتین دن پہلے یہ فرماتے سناکہ تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس طرح کہ الله سے اچھی امید رکھتا ہو ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهٖ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ: “لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّه” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1605 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ قیامت میں الله مسلمانوں سے پہلے کیا فرمائے گا اورمسلمان پہلے کیا عرض کریں گے ۱∞؎ہم نے کہا حضورصلی الله علیہ وسلم ضرور فرمایاجائے فرمایا الله تعالٰی مسلمانوں سے فرمائے گا کیا تم مجھ سے ملنا چاہتے ہوعرض کریں گے ہاں یا رب،فرمائے گا کیوں؟عرض کریں گے کہ ہم تیری معافی اورمغفرت کی آس لگاتے تھے۲؎تب فرمائے گا کہ تمہارے لیئے میری بخشش واجب ہوگئی۳؎شرح سنہ و ابونعیم(حلیہ)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِن شِئْتُمْ أَنْبَأْتَكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهٗ ؟” قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَقُول للْمُؤْمِنِيْنَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِيْ؟ فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1606 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیاوی لذتیں ختم کرنی والی موت کا ذکر بہت کیا کرو ۱∞؎(ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1607 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہےحضرت ابن مسعود کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا الله سے پوری حیاءکرو انہوں نے عرض کیا یا نبی الله خدا کا شکر ہے کہ ہم الله سے غیرت کرتے ہیں ۱∞؎فرمایا یہ نہیں ہے لیکن جو الله سے پوری غیرت کرے تو وہ سر اور اس میں محفوظ چیزوں اور پیٹ اور اس کے اندر کی چیزوں کی حفاظت کرے اور موت اور گل جانے کو یاد رکھے ۲؎جو آخرت چاہتاہے وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۳؎جس نے یہ کیا اس نے الله سے پوری غیرت کی۔(احمد، ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهٖ: “اسْتَحْيُوا مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ” قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ قَالَ: “لَيْسَ ذٰلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيٰى مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعٰى وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا حَوٰى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتُ وَالْبِلٰى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيٰى مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1608 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےمسلمان کا تحفہ موت ہے ۱∞؎(بیہقی ،شعب الایمان )

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1609 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن پیشانی کے پسینہ سے مرتاہے ۱∞؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ”.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَابْنُّ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1610 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت عبید الله ابن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ناگہانی موت غضب کی پکڑ ہے ۱∞؎(ابوداؤد)اوربیہقی نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ بڑھایا کہ کافر کے لیئے غضب کی پکڑہے اور مؤمن کے لیئے رحمت۔

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَوْتُ الْفُجَاءَةِ أَخْذَةُ الْأَسَفِ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهٖ: “أَخْذَةُ الأَسْفِ لِلْكَافِرِ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤمِنِ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1611 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کی موت کی حالت میں تشریف لے گئے تو فرمایا کہ تو اپنےکو کیسا پاتاہے ۱∞؎اس نے عرض کیا یارسول الله میں الله سے امیدکررہا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈررہا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دوچیزیں بندے کے دل میں اس جیسی حالت میں جمع نہیں ہوتیں مگر الله اسے اس کی امید دیتاہے اور ڈراؤنی چیزسے امن دیتاہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ عَلیٰ شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: “كَيْفَ تَجِدُكَ؟” قَالَ: أَرْجُوْاللهَ يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهٗ مِمَّا يَخَافُ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1612 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ موت کی آرزو نہ کرو کیونکہ اس پہاڑ کی وحشت سخت ہے ۱∞؎اور یہ نیک بختی ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو اور الله اسے رجوع الی الله نصیب کرے ۲؎(احمد)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنَابَةُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1613 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے حضور نے ہمیں نصیحت فرمائی اور ہمارے دل نرم کردیئے حضرت سعد ابن ابی وقاص روئے اور بہت روئے ۱∞؎بولے ہائے کاش میں مرجاتا تب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد کیا میرے روبرو موت کی آرزو کرتے ہو یہ تین بار فرمایا ۲؎پھر فرمایا اے سعد اگر تم جنت کے لیئے پید ا کیئے گئے ہو توجس قدر تمہاری عمر دراز ہو اور تمہارے عمل اچھے ہوں تمہارے واسطے بہتر ہے۳؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَلَسْنَا إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكٰى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “يَا سَعْدُ أَعِنْدِي تَتَمَنَّى المَوْتَ؟” فَرَدَّدَ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: “يَا سَعْدُ إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1614 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر

روایت ہے حضرت حارثہ ابن مضرب سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت خباب کے پاس گیا ۱∞؎جنہیں سات داغ دیئے گئے تھے فرمایا اگر میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا نہ ہوتا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے تو میں اس کی آرزو کرتا ۲؎میں نے اپنے کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میں ایک درہم کا مالک نہ تھا اور آج میرے گھر کے کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں ۳؎فرماتے ہیں پھر ان کا کفن لایا گیا اسے دیکھا تو روئے ۴؎اور بولے کہ جناب حمزہ کو کفن بھی نہ ملا سوا اس دھاری دار چادر کے جو اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو قدموں سے کھل جاتی اور قدموں پر ڈالی جاتی تو سر سے کھل جاتی حتی کہ ان کے سر پر چادر ڈالی گئی اور قدموں پر گھاس ۵؎(احمد،ترمذی)لیکن ترمذی نے کفن لانے سے آخر تک واقعہ بیان نہ کیا۔

عَن حَارِثَةَ بْنِ مُضَرَّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوٰى سَبْعًا فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ” -- لَتَمَنَّيْتُهُ. وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِيَ الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهٖ فَلَمَّا رَآهُ بَكٰى وَقَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهٗ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلیٰ رَأْسِهٖ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلیٰ قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهٖ حَتّٰى مُدَّتْ عَلیٰ رَأْسِهٖ وَجُعِلَ عَلیٰ قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يُذْكَرْ: ثُمَّ أُتِيَ بِكَفْنِهِ الٰى آخِرِهٖ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1615 ، باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر