Halal Ke Fazail

Book Name:Halal Ke Fazail

سے بھی وہی سوال پوچھا: انہوں نے بھی فرمایا: اللہ پاک کے ذِکْر سے دِل نرم ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا: میں امام احمد بن حنبل   رحمۃُ اللہ علیہ   کی خدمت میں حاضِر ہوا تھا، اتنا سُنتے ہی ان کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا،فرمایا:امام احمد   رحمۃُ اللہ علیہ   نے تمہیں کیا جواب دیا؟ میں نے عرض کیا: امام صاحِب فرماتے ہیں: دِل کی نرمی رِزْقِ حلال میں ہے۔ حضرت عبدُ الوَہّاب   رحمۃُ اللہ علیہ   نے بھی وہی بات کہی، فرمایا: امام صاحِب نے اَصْل بنیاد بتائی ہے(واقعی حلال کھانے کے بغیر دِل ہرگز صاف نہیں ہو سکتا)۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے!3 اَوْلیائے کرام کی گواہی ہے کہ دِل کی نرمی اور صَفَائی کے لیے سب سے اَہَم چیز حلال کھانا ہے۔اس سے پتا چلا؛ بندے کا کھانا پینا حرام ہو، اس کے پیٹ میں حرام غِذا اُتر رہی ہو تو وہ چاہے جتنی مرضِی ریاضتیں کر لے، جتنی چاہے عبادتیں کر لے، اس کے دِل کی سیاہی نہیں اُتر سکتی، کھانا حلال ہو گا، تبھی عبادات اَثَر کریں گی، نماز کی برکتیں بھی تبھی ظاہِر ہوں گی، تِلاوت کا فیضان بھی تبھی دِل میں اُترے گا، تبھی دِل پاک ہو گا، تبھی اَخْلاق سنوریں گے۔

نمازیں نُور کیوں نہیں بڑھاتی ہیں؟

حضرت وَہب بن مُنَبّہ  رحمۃُ اللہ علیہ  سے روایت ہے: ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی حضرت شعیا  علیہ السَّلام  کی خِدْمت میں عرض کیا: ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر نماز ہمارے دِل کا نُور نہیں بڑھاتی؟ ہم زکوٰۃ دیتے ہیں، اِس کی برکتیں ظاہِر نہیں ہوتیں، ہم پُھوٹ پُھوٹ کر روتے ہیں، اِس کے باوُجُود ہماری دُعائیں سُنی نہیں جاتیں؟


 

 



[1]... حلیۃ الاولیاء ، جلد:9 ، صفحہ:193 ،رقم:13663 ملتقطًا۔