Book Name:Halal Ke Fazail
حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِطاعت اللہ پاک کے خزانوں میں پوشیدہ ہے اور اِس کی چابی دُعا ہے اور حلال کھانا اِس چابی کے دَندانے ہیں،([1]) اگر چابی میں دَندانے نہیں ہوں گے تو دروازہ بھی نہیں کھلے گا اور جب خزانہ نہیں کھلے گا تو اِس کے اندر پوشیدہ اِطاعت تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ لہٰذا اَپنے لقمے کی حفاظت کرو اور اپنے کھانے کو پاکیزہ بناؤ تا کہ جب تمہیں موت آئے تو بُرے اَعمال کی سیاہی کی جگہ نیک اعمال کا نُور تمہارے سامنے ظاہر ہو اور اپنے اَعضا کو حرام کھانے کے گُناہ سے روکے رکھو تاکہ یہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے لذّت پاسکیں ۔اللہ پاک فرماتا ہے :
كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ(۲۴) (پارہ:29، سورۂ حاقہ:24)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:(کہا جائے گا:) گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نےآگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔
اورجو حرام کھانے سے نہ بچا کرے تو وہ طویل عرصہ تک بُھوکا رہنے کے بعد تُھوہڑ کا کڑوا اَور گرم پھل کھائے گا تو یہ کیسا بد ترین کھانا ہوگا اور اس کا نقصان کتنا شدید ہو گا کہ یہ دل کے ٹکڑے کردے گا اورجِگرکو چِیر ڈالے گا، بدن کو پھاڑ دے گا اور جینا مُشکل کردے گا۔([2])
گنہگار طلبگارِ عَفْو و رَحمت ہے عذاب سَہنے کا کس میں ہے حَوصلہ یاربّ!
کہیں کا آہ! گناہوں نے اب نہیں چھوڑا عذابِ نار سے عطاؔر کو بچا یاربّ!([3])