Book Name:Halal Ke Fazail
کم تنخواہ میں کسی کاگُزر بسر نہ ہوتا ہو تو وہ غیر ضروری اَخراجات سے جان چھڑائے نہ کہ مال كی حرص میں حرام ذرائع اِختیار کرے،بسا اَوقات گھر، سسرال یا عزیز واَقارب میں کم تنخواہ كی وجہ سے طرح طرح كی باتیں سُننے کوملتی ہیں، ايسےموقع پرعقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ قلیل آمدنی میں بھی توکّل و قَناعت کا ذِہْن بنائے۔بعض نادان اِن حالات سے تنگ آکر ہمت ہار بیٹھتے ہیں، جُوا، بَھتہ، سُود اور رِشوت وغیرہ حرام كاموں میں پڑ جاتے ہیں،خود بھی مالِ حرام کھاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی مالِ حرام کِھلاتے ہیں،یُوں اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے ہلاکت و بربادی کو دعوت دیتے ہیں ۔آئیے!بارگاہِ رِسالت میں اِلتجا کرتے ہیں:
رہیں سب شاد گھر والے شہا تھوڑی سی روزی پر
عطا ہو دولتِ صبر و قناعت یارسولَ اللہ!([1])
حضرت سعد ابن ابو وقاص رَضِیَ اللہ عنہ نے نبیِ اَکرم، رسولِ مُکَرّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! دُعا فرمائیے کہ اللہ پاک مجھے ایسا بنا دے کہ میری دُعا قبول ہو جایا کرے تو قاسمِ نعمت،نبیِ رحمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یَاسَعْد!اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَۃِ یعنی اپنے کھانے کو پاکیزہ بناؤتمہاری دُعائیں قبول ہوا کریں گی۔([2])