Book Name:Halal Ke Fazail
آہ! آج کل ہمارے ہاں تو حال ہی بےحال ہے*لوگ بغیر پوچھے دوسروں کی چیزیں ہڑپ کر جاتے ہیں *گاہِک دُکاندار کو اور دُکاندار گاہکوں کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں *کبھی نوٹوں کی گڈی میں نقلی نوٹ چھپا کر دُکاندار کو تھما ڈالتے ہیں *دُکاندار کی چیزیں اُٹھا کر، ناحق پھانک جاتے ہیں *سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیوں سے چُپ چاپ کچھ نہ کچھ اُٹھا کر اپنی ٹوکری میں ڈال لیتے ہیں *ایک دُوسرے کی چپل بغیر اِجازت اِستعمال کرنا،یا اپنی چپل سے کسی اور کی چپل تبدیل کرنے کوتوشاید بُرا ہی نہیں سمجھا جاتا،یہ بہت تکلیف دہ مُعامَلہ ہے،روزمرہ کے کئی ایک اور ایسے معاملات بھی ہیں جن میں بِلا اِجازتِ شرعی دُوسروں کی چیزیں اِستعمال کرنا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا، بسا اَوقات دکاندار ایک دوسرے کی چیزیں بغیر بتائے اُٹھا کراِستعمال بھی کرتے رہتے ہیں اور سامنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتاہوگا،ایسے نادانوں کو سمجھنا چاہیے، عبرت لینی چاہیے، بظاہِر مَعْمُوْلی نَظْر آنے والی چیز بھی اگر بغیر اجازت استعمال کر ڈالی اور روزِ قیامت پکڑے گئے تو ہمارا کیا بنے گا؟
مشہور تابعی بزرگ حضرت وہب بن مُنَبّہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا، اس نے اپنے پچھلے تمام گُنَاہوں سے تَوْبَہ کی، 70 سال تک لگاتار اس طرح عبادت کرتا رہا کہ دِن کو روزہ رکھتا اور رات کو جاگ کر عبادت کرتا، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا، نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا۔ جب اس عبادت گزار کا انتقال ہوا تو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللہ بِکَ اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ جواب دیا: اللہ پاک نے میرا حِساب لیا، پھر سارے گُنَاہ بخش دئیے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس