Halal Ke Fazail

Book Name:Halal Ke Fazail

دُعا قبول نہ ہونے کا سبب

 حضرت عُبّاد خوَّاص  رحمۃُ اللہ علیہ  سے مَنْقُول ہے:ایک مرتبہ حضرت مُوسیٰ  علیہ السَّلام کسی مقام سے گُزرے تو دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ اُٹھائے رَو رَو کر بڑے رِقَّت اَنگیز انداز میں مصروفِ دُعا تھا۔حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ  علیہ السَّلام اُسے دیکھتے رہے،پھربارگاہِ خُداوندی میں عرض گُزار ہوئے:اے میرے رحیم وکریم پروردگار! تُو اپنے اِس بندے کی دُعا کیوں نہیں قبول کررہا ؟اللہ پاک نے آپ  علیہ السَّلام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ !اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اِس کا دَم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بُلند کرلے کہ آسمان کو چُھولیں، تب بھی میں اِس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔حضرت مُوسیٰ کلیمُ اللہ  علیہ السَّلام نے عرض کی:میرے مولیٰ!اِس کی کیا وجہ ہے؟اِرْشاد ہوا: یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں حرام مال ہے۔([1])

حُبِّ دُنیا سے تُو بچا یارب                عاشقِ مُصطَفٰے بنا یاربّ!

حِرصِ دنیا نکال دے دل سے           بس           رہوں             طالبِ            رضا           یا   ربّ!([2])

پیارے اسلامی بھائیو! سُناآ پ نے کہ جو حرام کھاتا،حرام پہنتا اوراپنے گھر میں حرام مال رکھتاہے تووه اپنی دُعاؤں کے ثمرات سے خُود کومحروم کرتا اورقہرِ قہار و غضبِ جَبَّار میں گرفتار ہوکر عذابِ نار کا حقدار قرار پاتا ہے ،لہٰذا اَگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دُعائیں بارگاہِ خُداوندی میں مَقْبول ہوں اوراللہ پاک کی ناراضی سے امن نصیب ہو تو ہمیں چاہیے کہ صرف حلال کھانا ہی اپنی عادت بنائیں اور حرام و ناجائز چیزوں سے بچتے رہیں،بالفرض اگر


 

 



[1]...عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیہ والخمسون بعد الثلاث مائۃ،  دعا من یاکل الحرام، صفحہ:312۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:79-81 ملتقطاً۔