Book Name:Halal Ke Fazail
بنی اسرائیل کی اِس شکایت کے جواب میں اللہ پاک نے فرمایا:
كَيْفَ اُنَوِّرُ صَلَاتَهُمْ وَقُلُوبُهُمْ صَاغِيَةٌ اِلَى الدُّنْيَا
ترجمہ: یعنی میں ان کی نماز کو نورانی کیسےبناؤں؟ جبکہ ان کے دِل دُنیا میں پھنسے ہوئے ہیں۔
كَيْفَ اَقْبَلُ صِيَامَهُمْ وَهُمْ يَتَقوَّوْنَ عَلَيْهِ بِالطُّعْمَةِ الْحَرَامِ؟
ترجمہ: میں ان کے روزے کیسے قبول کروں، جبکہ یہ روزے کی طاقت لقمۂ حرام سے لیتے ہیں۔([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! روزے کو عبادت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے، اگر آدمی روزے پر روزے رکھے مگر حلال نہ کھائے تو روزہ بھی دِل نہیں چمکاتا۔ پتا چلا؛ حلال کھانا انتہائی ضروری ہے۔
گِری ہوئی ایک کھجور کھانے کا وبال
ایک بہت بڑے اور مشہور و مَعْرُوف ولیُ اللہ ہوئے ہیں:حضرت ابراہیم بن اَدْہَم رحمۃُ اللہ علیہ ۔آپ نے اپنی زِندگی کا کافِی حصّہ سَفَر میں گزارا،فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں نے بَیتُ المقدّس (یعنی مسجدِ اَقْصیٰ )میں رات گزاری،میں نے دیکھا؛رات کے کسی پہر وہاں 2 فرشتے آئے، ان میں سے ایک فرشتے نے دوسرے سے کہا:یہاں کون اِنسان ہے؟ دوسرا بولا: یہ ابراہیم بن اَدْہَم ہیں۔ پہلے فرشتے نے کہا: وہ ابراہیم بن اَدْہَم ...!! انہیں تو اب اُن کے درجے (Rank) سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دوسرے فرشتے نے پوچھا: کس سبب سے؟ پہلے فرشتے نے کہا:ایک مرتبہ ابراہیم بن اَدْہَم بصرہ میں تھے،انہوں نے ایک دُکان