Book Name:Halal Ke Fazail
سے کھجوریں خریدیں،جب وہ کھجوریں لے کر جانے لگے تو دیکھا؛ ایک کھجور گِری پڑی ہے، وہ سمجھے کہ شاید یہ میری کھجور گِری ہے، لہٰذا اُنہوں نے وہ کھجور اُٹھا کر کھا لی، چونکہ وہ کھجور ان کی نہیں بلکہ دکاندار کی تھی اور انہوں نے دُوسرے کی کھجور کھا لی تھی، لہٰذا اللہ پاک نے انہیں اِن کے درجےسے مَعْزول (Deposed)فرما دیا۔
حضرت ابراہیم بن اَدْہَم رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے فرشتوں کی یہ گفتگو سُنی تو فوراً بصرہ پہنچا،اُس دکاندار کی کھجور اسے واپس لوٹائی اور واپَس آگیا۔ رات ہوئی تو پھر میں نے 2فرشتوں کو دیکھا، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا:یہ وہی ابراہیم بن اَدْہَم ہیں،جنہوں نے کھجور کے مالِک کو کھجور لَوٹا دی تو اللہ پاک نے انہیں دوبارہ اِن کا پہلے والا مقام عَطا فرما دیا۔([1])
اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مَغْفِرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
آئیے! اللہ پاک کے حُضُور دُعا کرتے ہیں:
محبّت میں اپنی گُما یااِلٰہی! نہ پاؤں میں اپنا پتا یااِلٰہی!
مِرے دِل سے دُنیا کی چاہت مٹا کر کر اُلفت میں اپنی فَنا یااِلٰہی!
تُو اپنی وِلایت کی خیرات دیدے مِرے غوث کا واسِطہ یااِلٰہی!
بنا دے مجھے نیک نیکوں کا صَدْقہ گُنَاہوں سے ہر دَم بچا یااِلٰہی!([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد