Book Name:Halal Ke Fazail
پیارے اسلامی بھائیو! 15 شوال ، 3 ہجری کو حق و باطِل کا عظیم معرکہ ہوا، جسے غزوۂ اُحد کہا جاتا ہے، غزوۂ اُحد میں حضرت امیرِ حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ بھی شریک تھے، آپ بہت بہادری سے لڑے، آخِر شہادت کے بلند رُتبے پر فائِز ہوئے۔([1]) بوقتِ شہادت آپ کی عمر مبارک 57سال تھی۔([2])
سرداری تمہیں حاصِل ہے سارے شہیدوں کی یوں حق کی حفاظت میں کی جان فِدا حمزہ!
احسان نہ بھولے گا میدانِ اُحُد تیرا ہے اس کی شبِ جاں میں اب تیری ضیا حمزہ!
شہادتِ امیر حمزہ پر غمِ مصطفےٰ
روایات میں ہے: سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدارصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اپنے چچا جان حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہ عنہ کی لاش مبارک کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: يَاحَمْزَةُ اے حمزہ! يَاعَمَّ رَسُوْلِ اللهِ اے رسولُ اللہ کے چچا جان! وَاَسَدَ اللهِ واَسَدَ رَسُوْلِهٖ اے اللہ و رسول کے شیر! يَاحَمْزَةُ يَافَاعِلَ الْخَيْرَاتِ اے حمزہ! اے بھلائی میں آگے بڑھنے والے! يَاحَمْزَةُ يَاكَاشِفَ الْكُرُبَاتِ اے حمزہ! اے رنج و غم دور کرنے والے! يَاحَمْزَةُ يَاذَابًّا عَنْ وَجْهِ رَسُوْلِ اللهِ اے حمزہ! اے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمسے دشمنوں کو دُور بھگانے والے!([3])
آپ کے دَم سے بڑھی شوکتِ اسلام شہا! باعثِ قُوَّتِ ایمان ہو حضرت حمزہ!
آپ کو بخشا گیا سیدِ شہدا کا لقب دِین پہ اس طرح قربان ہو حضرت حمزہ!