Halal Ke Fazail

Book Name:Halal Ke Fazail

مُؤْمِنُوْنَ(۸۸) (پارہ:7، سُورۂ مائدہ:88)

صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رِزْق دیا ہے اُس میں سے کھاؤ اور اُس اللہ سے ڈرو جس پر تم اِیمان رکھنے والے ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے سُورۂ مائِدہ، آیت: 88 سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے حلال اور طَیب یعنی پاکیزہ کھانے کا حکم دیا ہے۔ اِرْشاد ہوتا ہے:

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۸۸) (پارہ:7، سورۂ مائدہ:88)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رِزْق دیا ہے اُس میں سے کھاؤ اور اُس اللہ سے ڈرو جس پر تم اِیمان رکھنے والے ہو۔

حلال کھانا نہایت ضروری ہے

یہ بات یاد رکھ لیجیے! دِین میں حلال کمانے اور حلال کھانے کی بہت اہمیت ہے، ترقی ہو یا تَنَزُّلی، دونوں کی ابتدا رِزْق سے ہوتی ہے، جو لوگ ترقی کی طرف بڑھتے ہیں، سب سے پہلے ان کا رِزْق پاکیزہ ہوتا ہے، اس کی برکت سے دِل روشن ہوتے ہیں، اس کی برکت سے اَخْلاق سنورتے ہیں، عبادات میں دِل لگتا ہے، پِھر اخْلاقی درستی کی برکت سے پُوری قوم ترقی کر جاتی ہے۔

اسی طرح جو لوگ  تَنَزُّلی کے گڑھے میں گرتے ہیں، وہ بھی یک دَم نہیں گِرتے، پہلے رِزْق میں ملاوٹ آتی ہے، حرام کمائیاں ہوتی ہیں، اس کی نُحُوسَتْ سے دِل گندے ہو جاتے