Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi
قرآن کا ذوق بنا تھا، اب سارا سال ہی روزانہ کچھ نہ کچھ، پارہ، آدھا پارہ، پاؤ بھر یا کم از کم ایک رکوع ہی روزانہ تلاوت کی عادَت ہو جائے *.ماہِ رمضان میں ہم روزے کی خاطر حلال کھانے پینے سے بھی رُکے رہتےتھے، اب ہم حرام لقمے سے بچتے رہیں اور حلال رِزْق بھی بقدرِ ضرورت ہی کھائیں، زیادہ کھانے سے بچتے رہیں *.ماہِ رمضان میں تَراوِیح کی عادَت ہو گئی تھی، اب روزانہ زیادہ نہیں تو کم از کم 20 نفل ہی پڑھتے رہیں۔ یُوں ماہِ رمضان کا ذوق اب بھی ہم باقی اور جارِی رکھ سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
ہم نے بیان کی ابتدا میں ایک آیتِ کریمہ سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اس آیتِ کریمہ میں اَہْلِ تقویٰ کا ایک وَصْف ارشاد ہوا ہے۔
یُوں کہہ لیجیے کہ ماہِ رمضان تقویٰ دینے والا مہینا تھا، اب ماہِ رمضان کے بعد کی زندگی ہم نے کیسے گزارنی ہے؟ اس کا طریقہ ہمیں اس آیتِ کریمہ کی روشنی میں سیکھنے کو ملتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) (پارہ:9، سورۂ اعراف:201)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک پرہیزگاروں کوجب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آتا ہے تو وہ (حکمِ خدا) یاد کرتے ہیں پھر اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
اِس آیتِ کریمہ کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ لوگ جو مُتَقِّی ہیں، پرہیزگار ہیں، جب شیطان