Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi
جلدی جلدی نیکی کر لے، ابھی فُلاں فُلاں کام بھی تو کرنے ہیں۔ بندہ اِس وار کو ناکام بنا دے تو (4): شیطان چوتھا وار کرتے ہوئے رِیَاکاری کا خیال دِل میں ڈالتا ہے کہ دیکھ! کتنی اچھی نماز پڑھتا ہے، لوگ دیکھ کر تیری بہت تعریفیں کریں گے، بندہ اِس وَسْوَسے کی بھی کاٹ کر ڈالے اور اِخْلاص اپنائے تو (5): شیطان بندے کو خُود پَسَندِی میں مُبتَلا کرتا ہے، دِل میں ڈالتا ہے: واہ! تُو کتنا عبادت گزار ہے، اِخْلاص والا ہے۔ بندہ اِس وَسْوَسے کی بھی کاٹ کرے اور کہہ دے کہ اِس میں میری کوئی فضیلت نہیں ہے، یہ تو محض اللہ پاک کا کرم ہے (6): شیطان چھٹا وار کرتا ہے، امام غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: یہ شیطان کا انتہائی خطرناک وار ہے، بدبخت ملعون کہتا ہے: ہاں! ہاں! تُو چھپ کر عمل کرتا رہ، اللہ پاک تجھے لوگوں میں مشہور کر دے گا۔
اِس وَسْوَسے میں بظاہِر اِخْلاص کی ترغیب ہے مگر دَرْ پَرْدَہ یہ بدانجام دِل میں شہرت کی طلب ڈال دیتا ہے۔ اس وقت بندے کو چاہیے کہ کہہ دے: اے بدبخت! میں بندہ ہوں، میرا کام بندگی ہے، میں اپنے رَبّ کی عبادت کرتا رہوں گا، آگے اس مالِک کی مرضِی، وہ چاہے تو مجھے عزّت بخشے، چاہے تو نہ بخشے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! شیطان کتنا بدبخت لعین ہے، ایسا نہیں کہ یہ ہمیں وَسْوَسَہ ڈالے گا، ہم اس کی نہیں مانیں گے تو یہ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائے گا، نہیں...!! یہ مسلسل بہکاتا ہی رہتا ہے، بہکاتا ہی رہتا ہے۔ شیطان کی اسی بُری خصلت کا اشارہ آیتِ کریمہ سے مِلا، فرمایا: