Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi
وہاں کے پھل کھا رہا ہوں، اُس کی نہروں سے مَشْروب پی رہا ہوں اور حوروں سے ملاقات کر رہا ہوں۔ اِن تَصَوُّرات کے بعد میں نے اپنے نَفس سے پوچھا :تجھے کس چیزکی خواہِش ہے؟(جنَّت کی یا دوزخ کی ؟) نَفس نے کہا:(جنَّت کی اِسی لیے)میں چاہتاہوں کہ دنیا میں جا کر نیک عمل کر کے آؤں تاکہ جنَّت کی خوب نعمتیں پاؤں تب میں نے اپنے نَفس سے کہا: فی الحال تجھے مُہلَت ملی ہوئی ہے۔( یعنی اے نفس! اب تجھے خود ہی راہ مُتَعَيَّن کرنی ہے کہ سُدھر کر جنّت میں جانا ہے یا بگڑ کر دوزخ میں!اب تو اسی حساب سے عمل کر) ([1])
کچھ نیکیاں کما لے جلد آخِرت بنا لے کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی! زندگی کا
سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے! اللہ والوں کاکیسا انداز تھا، خُود کو اللہ پاک کی نعمتیں بھی یاد دِلاتے، جہنّم کے عذابات بھی یاد دِلاتے، یُوں گُنَاہوں سے بچنے کی کوشش میں مَصْرُوف رہا کرتے تھے۔
حضرت اِبْراہیم بن اَدَہم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت بڑے وَلِیُّ اللہ ہیں، ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضِر ہوا، عرض کیا: یَا سیّدِی! مجھے سے بہت گُنَاہ ہو جاتے ہیں، برائے مہربانی! گُنَاہوں کا کوئی عِلاج بتائیے! آپ نے فرمایا:(1): جب گُنَاہ کرنے کا پکّا اِرادہ ہو جائے تو اللہ پاک کا رِزْق کھانا چھوڑ دیا کرو! اُس شخص نے حیرت سے عَرض کی:حضرت ! آپ کیسی نصیحت فرما رہے ہیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ رَزَّاق وُہی ہے، میں اُس کی روزی چھوڑکربھلا کس کی روزی کھاؤ ں گا! فرمایا:دیکھو!کتنی بُری بات ہے کہ جس پَروَردَگار کی