Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

دردِ سر ہو یا بخار آئے تڑپ جاتا ہوں     میں جہنّم کی سزا کیسے سَہوں گا یاربّ!

ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں، کیسے میں پھر     قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!

گُھپ اندھیرے کا بھی وَحشت کا بسیرا ہوگا قبر میں کیسے اکیلا میں رہوں گا یاربّ!([1])

پیارے اسلامی بھائیو! یہ رَبِّ کریم کے حُضُور حاضِری کا ایک تَصَوُّر ہے۔ کاش! جب بھی ہمارا دِل گُنَاہ کی طرف مائِل ہو تو ہمیں یہ حاضِری یا دآجائے، رَبِّ رحمٰن کے حُضُور کھڑے ہونا یاد آجائے اور ہم ڈر کر، رَبِّ رحمٰن سے شرما کر گُنَاہ چھوڑ دینے میں کامیاب ہو جائیں۔ کم از کم اتنا بھی خوفِ خُدا نصیب ہو جائے تو ہماری زندگی سَنْور سکتی ہے۔ یہی وہ خوف ہے جس پر دو جنّتوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔

جنّت چاہیے یا دوزخ؟

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ والوں کی یہ عادتِ کریمہ تھی کہ تَذَکُّر اپناتے، یعنی اپنے دِل کو غفلت سے بچاتے اور اللہ پاک کی، اُس کے انعامات اور عذابات کی یاد کرتے رہا کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم تَیمِی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے یہ تَصَوُّر باندھا کہ میں جہنّم میں ہوں اور آگ کی زنجيروں میں جکڑا ہوا،تُھوہَر(یعنی زہریلاکانٹے دار دَرَخت) کھا رہا ہوں اور دَوزَخیوں کا پِیپ پی رہا ہوں۔ اِن تَصَوُّرات کے بعد میں نے اپنے نَفس سے سوال کیا: بتا، تجھے کیا چاہیے؟ (جہنّم کا عذاب یا اس سے نجات ؟)نفس بولا:(نجات چاہیے اِسی لیے) میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں واپَس چلا جاؤں اور ایسے عمل کروں جس کی وجہ سے مجھے اِس دوزخ سے نَجات مل جائے۔ اِس کے بعد میں نے یہ خيال جمایا کہ میں جنَّت میں ہوں،


 

 



[1]...وسائلِ بخشش، صفحہ:84-85 بتقدم وتاخر۔