Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

گئے، اُس بادَل سے آواز گونجی: اے عبد القادِر! میں تیرا رَبّ ہوں، میں نے تمام حرام چیزیں تمہارے لئے حلال کر دِی ہیں۔

اب دیکھیے! کیسا زَبَردست مَنْظَر بنایا جا رہا ہے، ہم جیسا کوئی ہوتا تو اپنی اعلیٰ وِلایتوں کا ڈھنڈورا پیٹ ڈالتا مگر غوثِ پاک تو پِھر غوثِ پاک ہیں نا، آپ سمجھ گئے کہ یہ شیطان بدبخت ہے، آپ نے فورًا پڑھا: اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم۔ بس یہ پڑھنے کی دَیْر تھی، ایک دَم روشنی ختم ہو گئی اور بادَل نے دُھوئیں کا رُوپ ڈھال لیا۔

آپ دیکھیے! کتنا سخت تَرِین شیطانی وار تھا جس کی حُضُور غوثِ پاک  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے کاٹ کر ڈالی مگر شیطان بہت بدبخت ہے، اس بدانجام نے جاتے جاتے ایک اَور وَار کیا، کہا: اے عبد القادِر! میں 70 نیک بندوں کو اِس طریقے سے گمراہ کر چکا ہوں، تجھے تیرے عِلْم نے بچا لیا۔

یہ بھی ایک سخت وار تھا، حُضُور غوثِ پاک  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے اِس وار کی بھی کاٹ کی اور فرمایا: اے مردُود! مجھے میرے عِلْم نے نہیں بلکہ میرے رَبّ کے فضل نے بچا لیا۔ ([1])

کلیجہ شیاطیں کا تھرّا اٹھے گا                 پکارو سبھی مل کے یا غوثِ اعظم

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! شیطان کتنا مردُود ہے، یہ کبھی تھکتا نہیں ہے، اِس کے ایک وسوسے کی کاٹ کرو! دوسرا ڈالتا ہے، دوسرے کی کاٹ کرو، تیسرا ڈالتا ہے۔

شیطان ہر طرف سے وار کرتا ہے

قرآنِ کریم میں ہے، جب شیطان بارگاہِ اِلٰہی سے مَرْدُود ہوا، اسی وقت اس نے


 

 



[1]... بہجۃالاسرار، ذکر شیء من اجوبتہ ممّا یدلّ علی قدم راسخ فی علوم الحقائق،صفحہ:228۔