Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

آہ! وہ جہنّم...!! جس کی آگ دُنیا کی آگ سے 70 گُنَا تیز ہے * آہ! وہاں کے بڑے بڑے سانپ، انتہائی ہولناک بچھو! * وہ جہنّم کے گڑھے، خدانخواستہ، اللہ نہ کرے! اگر گُنَاہوں کے سبب پکڑ ہو گئی اور مجھے جہنّم میں ڈال دیا گیا تو میں کیا کروں گا۔ یُوں اللہ پاک کے انعامات اور آخرت کے عذابات کو سوچ کر وہ پختہ ہو جاتے ہیں، آنکھیں کھل جاتی ہے اور وہ شیطان کے ہر وَسْوَسے کی کاٹ کر ڈالتے ہیں۔

2جنتیں مِل گئیں

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ  کے دورِ مبارک کی بات ہے، ایک نوجوان بہت متقی، پرہیز گار تھا۔ حضرت عمر  رَضِیَ اللہ عنہ  بھی اس کی عبادت گزاری دیکھ کر حیران ہوا کرتے تھے۔ وہ نوجوان جب نمازِ عشا پڑھ کر گھر جاتا تو راستے میں ایک خوبصُورت عورت اسے اپنی طرف بُلاتی لیکن وہ نیک طبیعت نوجوان اس طرف بالکل تَوَجُّہ نہ کرتا، نگاہیں نیچے کیے گزر جایا کرتا۔ ایک دِن جب وہ گزر رہا تھا، عورت نے اسے اپنی طرف بُلایا تو وہ نوجوان بھی اس طرف مائِل ہو گیا لیکن جیسے ہی عورت کے قریب پہنچا تو اسے اللہ پاک کا یہ فرمان یا د آ گیا :

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) (پارہ:9، سورۂ اعراف:201)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک پرہیز گاروں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آتا ہے تو وہ (فوراً حکمِ خدا) یاد کرتے ہیں پھراسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔