Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi
انسان سے دُشمنی کا اِعْلان کر دیا، اس بدبخت نے کہا:
لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۱۶) ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآىٕلِهِمْؕ-وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ(۱۷) (پارہ:8، سورۂ اعراف:16-17)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے او ر داہنے اور بائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
اللہ اکبر! یہ بدبخت باقاعِدَہ اِعْلان کر رہا ہے کہ میں صِراطِ مستقیم (یعنی سیدھے راستے پر، نمازوں کے رستے پر، روزوں کے رستے پر، تِلاوت کی راہوں پر، نیکیوں کی راہ) پر جم کر بیٹھوں گا اور بندوں پر آگے سے، پیچھے سے، دائیں، بائیں، ہر طرف سے وار کروں گا اور انہیں بہکاتا رہوں گا۔
محبوبِ خدا سر پہ اَجل آ کے کھڑی ہے شیطان سے عطارؔ کا ایمان بچا لو!
امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اپنی کتاب مِنْہَاجُ الْعَابِدِین میں شیطان بدبخت کی 6 وارداتوں کی نشاندہی کی ہے، لکھتے ہیں: (1): سب سے پہلے عِبَادت سے روکتا ہے (مثلاً اذان ہو گئی، بندہ نماز کے لیے اُٹھنا چاہتا ہے، دِل میں ڈالے گا؛ چھوڑو! رہنے دو! اللہ معاف فرمانے والا ہے، نماز نہ بھی پڑھی تو معافی مل ہی جائے گی)، اگر اللہ پاک کا فضل شامِلِ حال ہو، بندہ اس وَسْوَسے کی کاٹ کر دے تو (2): شیطان دوسری چال چلتا ہے، کہتا ہے: چلو! تھوڑی دَیْر میں پڑھ لینا، ابھی کونسی جلدی ہے، کل سے شروع کر لینا۔ اگر اللہ پاک کے فضل سے آدمی اِس وَسْوَسے کی بھی کاٹ کر دے، یُوں سمجھیےکہ بندے نے نماز شروع کر دی تو (3): شیطان تیسرا وار کرتا ہے، کہتا ہے: