Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi
کو گُنَاہوں سے بچانے کی بھرپُور کوشش میں لگ جایا کریں۔
حدیثِ پاک میں ہے: شیطان انسان کے دل پر اپنی سُونڈ رکھ دیتا ہے، اگر وہ اللہ پاک کا ذکر کرے تو وہ سُکڑ جاتا ہے اور اگر اللہ پاک کو بھول جائے تو اُس کے دل کولقمہ بنا لیتا ہے۔([1])
حضرت عمر بن عبدُ العزیز رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے منقول ہے، کسی نے اللہ پاک سے دُعا کی : یااللہ پاک ! مجھے بنی آدم(یعنی آدمی) کے دل میں شیطان کے وَساوِس ڈالنے کا طریقہ دکھا دے۔ اُس نے خواب میں دیکھا کہ ایک شیشے کی طرح کا آدمی ہے،جس کے اندر باہَر سب آر پار نظر آرہا ہے، اُس کے کاندھے اور کان کے درمیان شیطان مینڈک کی شکل میں بیٹھ کر اپنی طویل باریک سُونڈ کو کاندھے سے اس کے دل تک داخل کئے وَسْوَسے ڈال رہا ہے،جب جب وہ آدمی اللہ پاک کا ذِکر کرتا ہے، شیطان پیچھے ہٹ جاتاہے۔([2])
روایت میں ہے:شیطان انسان کے دل پربیٹھا رہتا ہے،جب بندہ ذِ کرُ اللہ سے غافل ہوجاتا ہے توشیطان وَسوَسے ڈالتا ہے اور جب انسان اللہ پاک َ کاذِکر کرتا ہے توشیطان