Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

اِس آیتِ کریمہ کے یاد آتے ہی اس کے دِل پر اللہ پاک کا خوف غالِب آیا اور وہ بےہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔

جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ تلاش کرتے ہوئے، وہاں پہنچا، اُسے اُٹھا کر گھر لے گیا۔ جب نوجوان کو ہوش آیا تو اُس نے اپنے والِد کو تمام واقعہ سُنایا، واقعہ سُناتے سُناتے جب اُس نے دوبارہ وہ آیتِ کریمہ پڑھی تو دوبارہ خوفِ خُدا غالِب آیا، اُس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دَم نکل گیا۔ رات ہی کو غسل و کفن کا انتظام کر کے اُسے دفن کر دیا گیا۔ صبح کو جب حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ  کو تمام واقعہ مَعْلُوم ہوا تو آپ اُس نوجوان کی قبر پر تشریف لائے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھی:

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) (پارہ:27، سورۂ رحمٰن:46)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔

قبر میں سے اُس نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْن!بیشک میرے ربّ نے مجھے 2جنتیں عطا فرمائی ہیں۔([1])

اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا تَصَوُّر

سُبْحٰنَ اللہ! کیا پیارا اِنْعام ہے۔ ہمیں بھی یہ وَصْف اپنانا چاہیے۔ ویسے ہم بزرگوں کے خوفِ خُدا کی کیفیات کو دیکھیں تو ان کی تو کیا ہی شان ہے...!!*ان پر تو خوفِ خُدا کے سبب کپکپی طاری رہتی تھی*انہیں دیکھنے والوں کو لگتا تھا کہ جیسے ابھی میدانِ محشر سے ہو کر واپس آ رہے ہیں*ہر وقت ڈرے، سہمے رہتے تھے*خوفِ خُدا کے سبب روتے


 

 



[1]...تاریخ مدینہ دمشق، جلد:45، صفحہ:450۔