Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

Book Name:Ramazan Ke Bad Ki Zindagi

کی طرف سے اُنہیں گُنَاہ کرنے یا اللہ پاک کی اِطاعت چھوڑنے کا کوئی وَسْوَسَہ آتا ہے تو وہ اللہ پاک کی قدرت اور اُس کے اِنْعامات میں غور کرتے ہیں اور اُس کے عذاب اور ثواب کو یاد کرتے ہیں اور اُسی وقت گُنَاہ کرنے سے رُک جاتے ہیں۔([1])

شیطان کا طریقۂ واردات

پیارے اسلامی بھائیو! شیطان ہمارا کھلا دُشمن ہے:

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ (پارہ:22، سورۂ فاطر:6)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ شیطان بڑا خبیث ہے، یہ بدبخت ایک وَسْوَسَہ نہیں ڈالتا، ایسا نہیں ہے کہ شیطان نے ہمارے دِل میں وَسْوَسَہ ڈالا، ہم نے اُس کی نہیں مانی تو وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جائے گا، نہیں...!! شیطان بدبخت وَسْوَسوں کی بَوچھاڑ کر دیتا ہے، ایک وَسْوَسَہ نہ مانیں تو دُوسرا ڈالتا ہے، دوسرا نہ مانیں تو تیسرا ڈالتا ہے۔ یہ بدبخت اُس وقت تک وَسْوَسے ڈالتا رہتا ہے جب تک بندے کو بہکا کر گُنَاہ میں مُبتَلا کر نہ دے۔

شیطان کی مٹی پلید ہو گئی

بڑا مشہور واقعہ ہے، نیکوں کے سردار، وَلِیّوں کے وَلِی حُضُور غوثِ پاک شیخ عبد القادِر جیلانی  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  جنگل میں عِبَادت کر رہے تھے، کئی دِنوں کا فاقہ تھا، پیاس کا بھی سخت غلبہ تھا، اچانک آپ کے سَر پر ایک بادَل نمودار ہوا، اِس بادَل کے اندر سے ایک نُورانی صُورت ظاہِر ہوئی، اُس صُورت سے نکلنے والی کرنوں سے آسمان کے کِنَارے روشن ہو


 

 



[1]...تفسیر صراط الجنان، پارہ:9، سورۂ اعراف، زیرِ آیت:201، جلد:3، صفحہ:508۔