Book Name:Sayida Kainat Ke 3 Mamoolat
*پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: میری اُمّت کے زیادہ شرف والے لوگ اَہْلِ قرآن اور اَصْحابُ اللَّیْل (یعنی رات کو عبادت کرنے والے) ہیں۔([1]) * حديث پاک میں ہے: وہ 2رکعتیں جنہیں بندہ رات کے درمیان میں ادا کرتا ہے، اس کے لیے دنیا و مافیہا (دنیا اور جو کچھ اس میں ہے) سے بہتر ہیں، اگر میں اپنی اُمَّت پر اسے مشکل خیال نہ کرتا تو ان پر اسے فرض کر دیتا۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! شب بیداری اَہْلِ عشق ومحبّت، اَوْلیاءُ اللہ کا طریقہ ہے، ہمارے اَسْلاف، بزرگانِ دِین، اللہ پاک کے نیک بندے پُوری پُوری رات عبادت میں گزارا کرتے تھے*امام اعظم ابو حنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ ساری رات جاگ کر عبادت فرماتے۔ حضرت علی بن یزید صدائی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو دیکھا کہ وہ ماہِ رمضان میں 60 بار قرآنِ کریم ختم فرماتے روزانہ دن رات میں ایک ایک بار۔([3]) *حضرت ثابت بنانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ 50سال مسلسل شب بیداری کرتے رہے، جب سحری کا وَقت ہوتا تو یوں دُعا کرتے: اے اللہ پاک! اگر تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو قبر میں نماز ادا کرنے کا شَرَف عطا فرمایا ہے تو مجھے بھی عطا فرمانا۔ اللہ پاک نے آپ کی یہ دُعا قبول کی، آپ کی قبرِ اَنْور سے تلاوت کی آواز آیا کرتی تھی۔([4]) *حضرت رابعہ بصریہ رَحمۃُ اللہ علیہا نے 50 سال ایسے گزارے کہ کبھی تکیے پر سر نہ رکھا، آپ ساری رات نماز پڑھتی