Book Name:Sayida Kainat Ke 3 Mamoolat
ایک وقت کے فاقے کے بعد کھانا میسّر ہوا تو والدِ محترم(یعنی حضرت علی رَضِیَ اللہ عنہ ) اور بھائی حسین( رَضِیَ اللہ عنہ ) اور میں کھانا کھا چکے تھے لیکن والدہ ماجدہ نے ابھی نہیں کھایا تھا۔ انہوں نے ابھی روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازے پر ایک سائل نے صدا دی: اے رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شہزادی! میں 2وقت کا بھوکا ہوں، مجھے کھانا کِھلادو! والدہ محترمہ رَضِیَ اللہ عنہا نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور مجھے فرمایا: جاؤ یہ کھانا سائل کو دے آؤ!میں نے عرض کی اَمِّی جان آپ نے بھی تو کھانا نہیں کھایا ہے۔ فرمایا: میں نے ایک وقت سے نہیں کھایا لیکن سائل نے 2وقت سے کھانا نہیں کھایا (لہٰذا اُسے کھانے کی زیادہ ضرورت ہے)، یہ سن کر میں اٹھا اور سائل کو روٹی دے دی۔([1])
بھوکے رہ کے خود اَوروں کو کھلا دیتے تھے کیسے صابِر تھے مُحَمَّد کے گھرانے والے!
پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! سیِّدہ فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہ عنہا کیسی صبر والی، کس قدر سخاوت کا ذِہن رکھنے والی تھیں۔ اللہ پاک اس سخی گھرانے کی برکت سے ہم گنہگاروں کو بھی سخاوت کی توفیق نصیب فرما دے۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: سَخاوت جنَّت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے، جس کی ٹہنیاں زمین کی طرف جُھکی ہوئی ہیں، جو کوئی ان میں سے کسی ایک ٹہنی کوپکڑ لیتا ہے ،وہ اسے جنَّت کی طرف لے جاتی ہے۔([2])
ایک حدیث شریف میں ہے: اَلْجَنَّةُ دَارُالْاَسْخِیَآء یعنی جنَّت سخیوں کا گھر ہے۔([3])