Book Name:Sayida Kainat Ke 3 Mamoolat
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ للہ! ماہِ رمضان کی مبارَک گھڑیاں ہیں، پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے رمضان کریم کے معمولات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ماہِ رمضان میں خوب کثرت سے سخاوت فرمایا کرتے تھے، روایات میں یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ماہِ رمضان میں تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخاوت فرماتے آپ سے جو مانگا جاتا، عطا فرما دیتے تھے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! ہمیں بھی ماہِ رمضان میں اپنی سخاوت بڑھا دینی چاہیے، ہمارے مُعَاشرے میں غریبوں کی کمی نہیں ہے،کتنے یتیم، مسکین، غریب بےچارے ایسے ہوں گے جن کی سحریاں افطاریاں پانی سے ہو رہی ہوں گی، کھجور خریدنے کی بھی ہو سکتا ہے طاقت نہ ہو، پھر رمضان کریم کے بعد ساتھ ہی عِیْد بھی تشریف لے آتی ہے،بےچارے غریب اچھے انداز میں روزے رکھ پائیں، سحری افطاری میں ان کا بھی دسترخوان سجے، اِنہیں بھی اللہ پاک کی پیدا کردہ نعمتیں کھانے کا موقع ملے، پھر عید بھی اچھے سے گزار سکیں، اس لیے ماہِ رمضان میں خوب دِل کھول کر صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
صحابی اِبْنِ صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما کی عادَت مبارک تھی کہ آپ افطاری مسکینوں کے ساتھ کیا کرتے تھے۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ!ہم بھی نِیّت کر لیں زیادہ نہیں تو کم از کم ایک افطار تو کسی غریب کے