Book Name:Sayida Kainat Ke 3 Mamoolat
دوزخ سے آزاد کیا ہے۔ ([1])
جو جانا خُلد میں ہو پائے زہرہ سے لپٹ جاؤ جسے کہتے ہیں جنّت مُلک ہے خاتونِ جنّت کا([2])
بتولاور زہراء سیِّدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا کے مشہور القاب ہیں، مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: آپ رَضِیَ اللہ عنہا جَنّت کی کلی تھیں، آپ رَضِیَ اللہ عنہا سے جنّت کی خوشبو آتی تھی جسےحُضُور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سُونگھا کرتے تھے،اس لیے آپ کا لقب زہراء ہوا یعنی جَنّت کی کلی۔([3])
بتول و فاطمہ زہراء لقب اس واسطے پایہ کہ دُنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنّت کی نِگْہت کا([4])
سیِّدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا کا وِصَالِ ظاہِری سرکارِ عالی وقار،مالک و مختار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے وصالِ ظاہِری کے 6 ماہ بعد 3 رمضان کریم 11 ہجری کو ہوا ۔ آپ کا مزارِ پاک جَنَّتُ البقیع میں ہے۔([5])
نبی کی لاڈلی، بیوی ولی کی، ماں شہیدوں کی یہاں جلوہ نبوت کا،ولایت کا، شہادت کا
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیدۂ کائنات رَضِیَ اللہ عنہا بہت اُونچی شان والی ہیں، آپ کے بہت سارے کمالات میں سے ایک اہم ترین کمال یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ عنہا سیرتِ پاک میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔