Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi
قبر جنّت کا باغ یا جہنّم کا گڑھا ہو گی
حضرت ابو سعىد خُدرى رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے : *میں اَجْنَبِیَّت کا گھر ہوں *میں تنہائی کا گھر ہوں *میں مٹی کا گھر ہوں *اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں۔ جب مومن کو قبر میں دفنایا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے : خوش آمدید تُو مىرى پُشْت پر چلنے والوں مىں سے مجھے محبوب ترىن تھا اور اب تُو مىرے اندر آ گىا ہے، اب تُو مىرا اچھا سلوک دیکھ ، پھر قبر اس کے لئے حدِ نگاہ تک کشادہ (Wide) ہو جاتى ہے اور اس کے لئے جنّت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور جب کوئى گنہگار یا غیر مسلم شخص دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے : تجھے کوئی مرحبا نہیں ، تُو مىرى پشت پر چلنے والوں مىں مىرے نزدىک بدترىن شخص تھا اور اب تُو مىرے اندر آ گىا ہے، اب اپنے ساتھ میرا برتاؤ دیکھ! پھر قبر اس پر اپنا گھىرا تنگ کر دیتی ہے اور اس کى پسلىاں اىک دوسرے مىں پىوست ہو جاتى ہىں۔ مزید فرمایا: اللہ پاک اس پر 70 ہزار اژدھے (یعنی بڑے سانپ)مقرر فرما دیتا ہے اگر ان مىں سے کوئى اىک بھى زمىن پر پُھنکار (یعنی پھونک مار) دے تو رہتی دنیا تک کبھى کچھ بھی نہ اُگے ، وہ اَژدھے اس مُردے کو تاقىامت ڈستے رہیں گے۔راوى کہتے ہىں: آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرماىا:اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ اَوْحُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النَّار ىعنى قبر جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ىا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔([1])