Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi
قرآن و سُنّت کے مطابق ہونا چاہئے *اس کے ساتھ ساتھ ہم نیک کام بھی کرتے رہیں *پانچوں نمازیں وقت پر، مسجد میں باجماعت ادا کرنے کی عادَت بنائیں *جتنے فرائِض و واجبات ہیں، ان پر عمل کریں *زکوٰۃ فرض ہو تو ادا کریں *روزے رکھیں *لوگوں کے ساتھ حُسْنِ سلوک سے پیش آئیں *قرآنِ کریم کی تِلاوت کثرت سے کریں *درودِ پاک کی کثرت کریں *ذِکْرُ اللہ کی کَثْرت کریں ۔ اس کے عِلاوہ بھی جو نیک کام ہیں، ان میں دِل لگائے رکھیں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! عذابِ قبر سے نجات کا سامان ہو جائے گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! قبر کی تاریکی کو روشنی میں اور قبر کی وحشت کو اطمینان و سکون میں بدلنے کا ایک نیک عمل اللہ پاک کی راہ میں صدقہ کرنا بھی ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہے: اِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِئُ عَلٰی اَہْلِہَا حَرَّ الْقُبُوْرِ یعنی بے شک صَدَقہ کرنے والوں کو صَدَقہ قَبْر کی گرمی سے بچاتا ہے وَ اِنَّمَا یَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ ظِلِّ صَدَقَتِہٖ اور بِلاشُبہ مُسَلمان قيامت کے دن اپنے صَدَقہ کے سائے میں ہو گا۔([1])
لہٰذا صدقہ دینے کی عادت بنانی چاہئے۔صدقہ دینے کے بہت زیادہ فضائل ہیں:*صَدَقہ بُرائیوں کے 70دروازے بند کرتا ہے *صَدَقہ دینے والا قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا*صَدَقہ قَبْر کی گرمی سے بچاتا ہے*صَدَقہ گُناہوں کو ایسے مِٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے *صَدَقہ آفتوں، بلاؤں کو روکتا ہے *صَدَقہ عُمْر کو بڑھاتا ہے *صَدَقہ بُری مَوت اور بُرے خاتمے سے بچاتا ہے *صَدَقہ اللہ پاک کے غضب کو بجھاتا ہے*صَدَقہ رزق میں وسعت اور مال کی کثرت کا باعث بنتا ہے