Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi
شیر (Lion) وغیرہ جانور نے چِیرپھاڑ کھایا تو وہ اس کی قبر شُمار ہو گی*کوئی سمندر میں ڈوب گیا تو وہی قبر سمجھی جائے گی*غرض کہ مرنے کے بعد انسان جہاں بھی ہے*جس بھی حالت میں ہے، اللہ پاک یہ قُدْرت رکھتا ہے کہ اسے اس کے اَعْمال کی جزا یا سزا دے۔ لہٰذا عالَمِ برزخ بھی حق ہے اور وہاں کی جزاء یا سزا کا معاملہ بھی بالکل حق، سچ ہے۔
عالَمِ برزخ دنیوی زندگی کا نتیجہ ہے
اے عاشقانِ رسول! عالَمِ برزخ میں ہمیں قیامت تک رہنا ہے، وہاں ہر ایک کا ٹھکانا اس دُنیا میں کئے ہوئے اَعْمال کے مُطَابِق ہو گا، جو اس دُنیا میں نیک ہے، اسے برزخ کی زندگی میں *عزّت(Respect)*عظمت *اور سکون و راحت سے نوازا جائے گا اور جو اس دُنیا میں *گنہگار ہے*نمازیں قضا کرنے والا ہے*رمضان المبارک کے روزے چھوڑنے والا ہے*ماں باپ کو ستانے والا ہے*مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے والا ہے *داڑھی منڈانے یا ایک مٹھی سے گھٹانے والا ہے*سُودِی لَیْن دَین کرنے یا خرید و فروخت میں ڈنڈی مارنے والا ہے، برزخ کی زندگی میں اس کا حال بہت بُرا ہو گا، آہ! اگر اللہ پاک کی رحمت سے مَحْرُوم رہ گئے تو قبر میں آگ بھی بھڑک سکتی ہے، سانپ بچھو بھی ڈیرہ جما سکتے ہیں، ہمارا یہ خوبصُورت جسم کیڑے مکوڑوں کی خوراک بھی بن سکتا ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا (پارہ:16، طٰہٰ:124)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لئے تنگ زندگی ہے
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیتِ کریمہ میں