Qabar Ka Muamla Asan Nhi

Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi

  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ   فرماتے ہیں: آدمی کے 2 گھر ہیں۔ (1):ایک وہ گھر جو زمین کے اُوپر ہے (2): دوسرا  وہ گھر جو زمین کے اندر ہے۔ آدمی زمین کے اُوپَر والے گھر کو سجانے سنوارنے میں لگا رہتا ہے، اس میں سردی گرمی سے بچنے کا انتظام کرتا ہے مگر اس فِکْر میں زمین کے اندر والے گھر کو خراب کر بیٹھتا ہے، پِھر اس کے پاس آنے والا آجاتا ہے (یعنی اس کی موت کا وقت ہو جاتا ہے)، اسے کہا جاتا ہے: ذرا بتاؤ تو یہ گھر جس کو تُو نے بہت سجایا سنوارا، اس میں کتنا عرصہ رہو گے؟ بندہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا...!! پِھر کہا جاتا ہے: اور جس گھر کو تُو نے خراب کر لیا (یعنی قبر) اس میں کتنا عرصہ رہنا ہے، بندہ کہتا ہے: وہی تو اَصْل ٹھکانا ہے۔ اب کہا جاتا ہے: تُو اس بات کا اِقْرار بھی کر رہا ہے (پِھر بھی تُو نے قبر کے لئے کچھ نہیں کیا) کیا تُو عقل مند ہے...!! ([1])

پیارے اسلامی بھائیو! حقیقت یہی ہے، ہم اس دُنیا میں کتنا عرصہ ہیں، ہم نہیں جانتے، جلد، بہت جلد ہمیں اندھیری قبر میں اُتار دیا جائے گا، پِھر وہاں ہم نے قیامت تک رہنا ہے، عقلمند وہی ہے جو اس دُنیا میں رہ کر قبر کی تیاری کرتا ہے، جو یہ نہیں کرتا بلکہ دُنیا کی رنگینیوں میں کھویا رہتا ہے، وہ بہت بدنصیب ہے، عنقریب اسے سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔

قبر کو روشن کرنے والے کام

پیارے اسلامی بھائیو! ہم پر لازم ہے کہ قبر کو روشن کرنے والے کام کریں اور قبر میں عذاب کا سبب بننے والے کاموں سے بچتے رہیں۔ مثلاً *قبر کو روشن کرنے کے لئے سب سے پہلی چیز عقیدہ ہے۔  *اللہ پاک کے متعلق *اس کے رسولوں کے متعلق *صحابہ و اَہْلِ بیت کے متعلق *اَوْلیائے کرام کے متعلق ہمارا عقیدہ بالکل درست اور


 

 



[1]..   اھوال القبور، الباب الثالث عشر فی ذکر کلمات...الخ،  صفحہ:244۔