Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi
اپنا گھر *دُکان (Shop) ہو یا آفس*گلی محلّہ ہو یا بازار غرض ہم کہیں بھی ہوں، تکبُّر سے بچیں، صِرْف و صِرْف عاجزی ہی اختیار کریں عاجزی اختیار کرنے سے ہمیں بلندی ہی ملے گی۔ حدیثِ پاک میں ہے: جو اللہ پاک کے لئے عاجزی کرتا ہےاللہ پاک اُسے بلندی عطا فرماتا ہے۔([1]) اس کے برخلاف قیامت والے دن اللہ پاک تکبُّر کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کر دے گا۔حدیث شریف میں ہے: قیامت کے دن تکبُّر کرنے والوں کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا، ہر طرف سے ان پر ذلّت طاری ہو گی، انہیں جہنم کے بُولَس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لےکر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں طِیْنَۃُ الْخَبَال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم اس دُنیا میں آ گئے، اب ہمیں مرنا ہی پڑے گا، قبر میں اُترنا ہی پڑے گا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہی پڑے گا۔ ہم چاہے لاکھ جتن کر لیں، ہزار کوششیں کریں، جتنا مرضِی بھاگ لیں، ہم اپنے اَعْمال سے چھٹکارا نہیں پا سکتے، ہمیں اپنی کرنی کے نتائج کا سامنا کرنا ہی کرنا ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ(۳۸)(پارہ29،سورۂ مدثر:38)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گروی رکھی ہے۔
معلوم ہوا ہر شخص اپنے اَعْمَال کے عوض گروی ہے،جو بھی اس دُنیا میں پیدا ہو گیا،