Book Name:Qabar Ka Muamla Asan Nhi
بیٹوں نے پِھر کمرہ کھولا، دیکھا کہ صندوق ہِل رہا ہے، چنانچہ صندوق اُتارا گیا، اب کھولا تو پہلے والے سانپ سے بھی بڑا سانپ بادشاہ کے سینے پر بیٹھا تھا، بڑی حیرانی ہوئی، انہوں نے پِھر اس سانپ کو باہَر نکالا اور مار دیا، صندوق پِھر بند کر کے لٹکا دیا گیا۔
یہ دوسری رات بھی جیسی گزری، سَو گزر گئی۔ تیسری رات ہوئی، کمرے سے پِھر آوازیں آنا شروع ہوئیں، بیٹوں نے دروازہ کھولا، صندوق نیچے اُتار کر اسے کھولا تو (خوف کے مارے ان کے ہوش گم ہو گئے کہ ) لوہے کا صندوق ہے، اس کے اندر ایک تابُوت ہے، باہَر سے صندوق بالکل صحیح سلامت ہے مگر اس تابُوت کے اندر خوفناک آگ بھڑک رہی ہے۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ عذابِ قبر سے ہر گز چھٹکارا نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے بادشاہ کی لاش کو باقاعِدہ قبر میں دفن کر دیا۔([1])
بادشاہ جس کا ہم نے واقعہ (Incident) سُنا، اسے دھوکا ہوا، وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں قبر میں نہ اُتروں تو اپنے گُنَاہوں کی سزا سے بچ جاؤں گا، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے، برزخ تو موت سے لے کر قیامت قائِم ہونے تک کے وقت کا نام ہے، اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰) (پارہ:18، المؤمنون:100)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں گے
*اب یہ (یعنی موت سے قیامت تک کا عرصہ) مٹی کے نیچے گزرا تو وہ قبر ہے*کسی کو