Book Name:La Makan Ke Raaz
پاک نے فرمایا:
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰) (پارہ:27، سورۂ نجم:10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔
یعنی جب پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خاص قربِ اِلٰہی میں حاضِر ہوئے، تب اللہ پاک نے اپنے خاصُ الْخاص بندے حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی طرف وہ وحی فرمائی، جو وحی فرمائی۔([1])
وہ وحی کیا تھی، یہ بیان کرنے سے پہلے یہاں کچھ اِیْمان افروز باتیں میں عرض کرنا چاہتا ہوں:
نثار جاؤں! وہ کیا نِدا تھی...!!
سب سے پہلے تو اُس وقت، اُس لمحے اور اُس ماحول کا ذرا تَصَوُّر باندھیے! یقیناً ہم تصَوُّر میں بھی پُوری طرح اُس مَنْظَر کو نگاہوں میں نہیں لا سکتے مگر ہم اپنی طاقت کے مطابق، نگاہِ عشق سے اُس مَنْظَر کو ذرا سمجھنے کی کوشش کریں؛
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ سے آگے بڑھتے ہیں، عرشِ اِلٰہی کے حجاباتِ نُور سے آگے بڑھتے ہوئے خاص قرب کی منزلوں پر پہنچتے ہیں، روایات میں ہے؛رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم فرماتے ہیں: سِدْرَہ سے گزر کر مجھے نُور میں ڈال دیا گیا، میں 70 ہزار حجابات سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔([2])
آواز آئی: قِفْ یَا مُحَمَّد! اِنَّ رَبَّکَ یُصَلِّیْ یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اِنتظار