Book Name:La Makan Ke Raaz
نقشِ قدم نبی کے ہیں جنّت کے راستے اللہ سے مِلاتے ہیں سنّت کے راستے
معیارِ خوبصورتی و خوب سیرتی پِنْہاں حدیث میں ہے عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی
حضرت امام جعفر صادِق رَحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ علیُّ الْمُرْتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: مِعْراج کی رات پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے عرض کیا: اِلٰہِیْ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ؟ یعنی اے اللہ پاک! افضل ترین عمل کونسا ہے؟
فرمایا:لَيْسَ شَيْءٌ اَفْضَلَ عِنْدِي مِنَ التَّوَكُّلِ، وَالرِّضَا بِمَا قَسَمْتُ لَهُمْ یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! میرے ہاں توکل اور میری تقسیم پر راضی ہو جانے سے افضل کوئی چیز نہیں ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ اللہ پاک نے ہمیں جو کچھ عطا فرما دیا، اُس پر راضِی رہنا اور اللہ پاک پر بھروسہ رکھنا افضل تَرِین عمل ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک کی رضا پر راضی رہا کریں۔
راضی بہ رِضا رہنے والوں کے لیے خوشخبری
اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: طُوبٰی لِمَنْ هُدِيَ لِلْاِسْلَامِ وكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وقَنِعَ یعنی خوشخبری ہے اُس کے لیے جس کو اسلام کی ہدایت دی گئی، قدرِ کفایت گزر بسر کا سامان دیا گیا اور وہ اُس پر قناعت کرے۔([2])