Book Name:La Makan Ke Raaz
ذِکْر کیا، فرماتے ہیں: اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو اپنی ہمکلامی کا شرف عطا فرمانا تھا تو 30 دِن کا وعدہ فرمایا کہ اے موسیٰ علیہ السَّلام ! کوہِ طُور پر پہنچیے، وہاں رہ کر 30 دِن عبادت کیجیے! تب آپ کو ہمکلامی کا شرف بخشا جائے گا۔ پِھر ان 30 دِنوں میں 10 دِنوں کا اِضافہ فرمایا، 40 دِن کے انتظار کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو ہمکلامی کا شرف عطا فرمایا۔
مگر مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان پر قربان جائیے! جب پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو ہمکلامی کا شرف بخشنا منظور ہوا تو 30 دِن، 40 دِن تو بہت دُور کی بات ہے، آدھا دِن بھی انتظار کی زحمت نہ دی، آناً فاناً قربِ خاص میں بُلایا اور ہمکلامی ہی نہیں دِیدار کا بھی شرف بخش دیا۔([1])
امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں:
قربان میں شان و عظمت پر سوئے ہیں چین سے بسترپر
جبریلِ امیں حاضر ہو کر معراج کا مُژدَہ سُناتے ہیں
جبریلِ امین بُراق لیے جنّت سے زمیں پر آپہنچے
بارات فرشتوں کی آئی معراج کو دولہا جاتے ہیں([2])
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے فرمایا:
فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰) (پارہ:27،سورۂ نجم:10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔