Book Name:La Makan Ke Raaz
فرمائیے! آپ کا رَبّ صلوٰۃ فرماتا ہے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دِل ہی دِل میں سوچا: اَرَبِّی یُصَلِّیْ؟ کیا میرا رَبّ صلوٰۃ فرماتا ہے؟ فرمایا گیا: اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! وہ اللہ پاک ہے جو خود بھی اور اس کے فرشتے بھی آپ پر صلوٰۃ یعنی درود بھیجتے ہیں۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے مصطفےٰ کی ...!!
خدا تو بھیجے ہے صَلُّوْا وَ سَلِّمُوْا کا خطاب تم ایسے بیٹھے ہو کیوں بے خبردرود پڑھو
رسولِ پاک کے حق میں تو یہ بھی تھوڑا ہے جو اُن کے نام پہ آٹھوں پَہر درود پڑھو([2])
پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم فرماتے ہیں: اِس کے بعد اللہ پاک نے فرمایا: اُدْنُ يَا اَحْمَدُ! اُدْنُ يَا مُحَمَّدُ! لِيَدْنُ الْحَبِيْبُ اے اَحْمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! قریب آئیے! اے مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !اَور قریب ہو جائیے! چاہیے کہ حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مزید قریب ہو جائیں۔ پس اللہ پاک نے مجھے اتنا قرب عطا فرمایا، جیسے قرآنِ کریم میں آیا ہے:([3])
فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) (پارہ:27، سورۂ نجم:9)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تَو دو کمانوں کے برابر بلکہ اِس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 2 کمانیں جب آپس میں ملیں تو دائرہ بن جاتا ہے، اب مَنْظَر گویا یُوں تھا کہ نُورِ خُدا نے مَحْبُوب مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا تھا اور مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اس نُورِ پاک کے بیچ میں تھے۔([4])