Book Name:La Makan Ke Raaz
اللہ پاک کو راضی کرنے کا طریقہ
ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی خِدْمت میں عرض کیا: اے اللہ پاک کے نبی علیہ السَّلام ! اللہ پاک سے ایسا عَمَل پوچھیے کہ جب ہم وہ عَمَل کریں تو اللہ پاک ہم سے راضِی ہو جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے رَبِّ کریم کی بارگاہ میں بنی اسرائیل کا مُدَّعا پیش کیا، اس پر اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ! بنی اسرائیل سے فرما دیں! وہ مجھ سے راضِی رہیں، میں اُن سے راضی ہو جاؤں گا۔([1])
رِضا میں راضِی رہنے کے 2طریقے
پیرانِ پیر، حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادِر جیلانی رَحمۃُ اللہ علیہ نے اللہ پاک کی رِضا میں راضی رہنے کے 2 آسان طریقے (Two simple methods)بتائے ہیں، آپ فرماتے ہیں: (1): جو شخص اللہ پاک کی رضا میں راضی رہنا چاہتا ہے، اُسے چاہیے کہ موت کو ہمیشہ یاد رکھے کیونکہ موت کی یاد دُنیوی مصیبتوں کو آسان بنا دیتی ہے (2):جس بات پر دِل میں شکوہ آئے، بندے کو چاہیے کہ اِس بات پر شکوہ کرنے کی بجائے، اللہ پاک سے دُعا کرے، مثلاً کسی پر غُرْبت آگئی یا کوئی بیمار ہو گیا ، اب اس کے دِل میں وَسْوَسے آتے ہیں تو اسے چاہیے کہ غربت یا بیماری کا شکوہ نہ کرے بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا کرے: یا اللہ پاک! مجھ سے غُرْبت دُور فرما دے، یا اللہ پاک! مجھے اس مرض سے شِفَا عطا فرما دے۔ یُوں اپنے دِل کو شکوہ شکایت کی بجائے، دُعا میں مشغول رکھے۔ اِس کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دِل ہلکا ہو جائے گا اور اللہ پاک نے چاہا تو رَبِّ کریم کی رِضَا میں راضِی رہنے کی