Book Name:La Makan Ke Raaz
بھی حیران ہے، آسمان بھی چکرا رہا ہے کہ اے جانِ عالَم! اے جانِ تمنّا! سات آسمان پیچھے رہے، عرش و کرسی بھی نیچے رہ گئے، اب آپ کا قیام کہاں ہو گا؟ اللہ پاک کی شان دیکھیے! اس رات کے سَفَر کو قرآنِ کریم نے سَیْرفرمایا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ناز و انداز سے سَیْر کرتے ہوئے چلنے کی رفتار(Speed) کا یہ عالَم ہے کہ جبریلِ امین علیہ السَّلام جو پلک جھپکنے میں سِدْرَہ سے زمین، زمین سے سِدْرَہ پر پہنچ جاتے ہیں، وہ اس رات آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا ساتھ نہ دے پائے، جب ناز و انداز سے سَیْر کرتے ہوئے چلنے کا یہ عالَم ہے تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تیز رفتاری کا عالَم کیا ہو گا...!!
تیرا وَصف بیاں ہو کس سے، تیری کون کرے گا بڑائی
اس گردِ سَفَر میں گُم ہے جبریلِ امیں کی رسائی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سَفَرِ معراج کے بہت سارے پہلو ہیں، جن پر گفتگو ہونی چاہیے، ان سب پہلوؤں میں ہمارے لیے سیکھنے کی بہت ساری باتیں ہیں، البتہ! آج سَفَرِ معراج کے جس اَہَم تَرِین مرحلہ پر ہم نے بات کرنی ہے، وہ ہے: لَامکاں کے راز۔ یعنی جب رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خاص قربِ اِلٰہی میں حاضِر ہوئے، اُس وقت محبوب و مُحِبّ کے درمیان کیا راز و نیاز کی باتیں ہوئیں؟ اِس ملاقات کا کچھ دِل نشین بیان آج ہم نے سننا ہے۔
ہم نے شروع میں پارہ:27، سورۂ نَجْم کی آیت:10 سننے کی سعادت حاصِل کی، اللہ