Book Name:La Makan Ke Raaz
اللہ نے وعدہ یہ کیا ہے شبِ معراج دوزخ میں رہے گا نہ گنہگار تمہارا
اے عاصیو! تم اپنے گناہوں سے یہ کہہ دو سرکارِ مدینہ ہے خریدار تمہارا([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! کیا شان ہے ہمارے آقا ومولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی...!! اللہ پاک کی پاک بارگاہ میں حاضِری ہے، خاص تنہائی میں ہمکلامی کا شرف مِل رہا ہے، رَبِّ کائنات نے مانگنے کا فرمایا تو محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے کیا مانگا...؟ ہم غلاموں کی بخشش کا سُوال فرمایا۔ سُبْحٰنَ اللہ!
مِعْراج کی شب تو یاد رکھا، پھر حشر میں کیسے بھُولیں گے
عطّاؔر اسی اُمِّید پہ ہم دِن اپنے گزارے جاتے ہیں([2])
سنّتوں کے پیکر بن جائیے!
پیارے اسلامی بھائیو! اب یہاں غور فرمائیے! ہمارے آقا، کریم آقا، رحیم آقا، ہم غُلاموں سے بےپناہ محبّت فرمانے والے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مِعْراج کی رات بھی ہم گنہگاروں کو نہ بُھولے، اب ہمارا کیا حق بنتا ہے...؟ کیا ہم اپنے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مَعَاذَ اللہ! بُھول جائیں...؟ نہیں...! نہیں...!! اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ علیہ ہمیں نصیحت فرماتے ہیں:
جو نہ بُھولا ہم غریبوں کو رضاؔ یاد اُس کی اپنی عادَت کیجیے!([3])
اللہ اکبر! جو آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کسی وقت ہمیں نہ بھولے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہر