Book Name:La Makan Ke Raaz
بخشا گیا تھا، آپ کو معراج پر بُلا کر بےپردہ کلام کا شرف بخشا جا رہا ہے*عرض کیا: مولیٰ! بےمثال بادشاہت تو حضرت سلیمان عَلَیْہ ِالسَّلام کو عطا کی گئی ہے، ارشاد ہوا: مَحْبُوب! آپ کو مقامِ محمود عطا کیا گیا ہے۔
یہ گویا پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی طرف سے اِظْہار تھا کہ اے مالِکِ کریم سب سے اُونچا رُتبہ، سب سے زیادہ شانیں، سب سے زیادہ عظمتیں تو مجھے ہی عطا کی گئی ہیں، اب مانگنےکو باقی رہ ہی کیا گیا ہے، اِس لیے میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا، ہاں! ایک چیز ہے جو مانگنی ہے، وہ کیا ہے؟ روایت میں ہے: محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے عرض کیا: یَا رَبِّ! فَاَقْبِلْ شَفَاعَتِیْ فِیْ عُصَاۃِ اُمَّتِیْ یعنی اے اللہ پاک! (جبکہ آدم عَلَیْہ ِالسَّلام کو سجدہ میرے نُور کی بدولت کروایا گیا، نُوح عَلَیْہ ِالسَّلام کی دُعا میرے وسیلے سے قبول کی گئی، ابراہیم عَلَیْہ ِالسَّلام کو خلیل میرے نُور کی برکت سے بنایا گیا، مجھے موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام سے بلند مقام بخشا گیا، مجھے مقامِ محمود عطا کیا گیا، جب اتنا کچھ عطا کیا گیا ہے تو پس اے مالِکِ کریم!) اب میرے گنہگار اُمّتیوں کے حق میں میری شفاعت بھی قبول فرما لے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے پیارے مَحْبُوب ! مجھے میری عزّت کی قسم! *آپ کے اُمّتی گُنَاہ کریں گے تو میں پردہ ڈال دوں گا *وہ مجھ سے بخشش مانگیں گے، میں بخش دُوں گا *مجھ سے مدد چاہیں گے، میں مدد فرماؤں گا *اور جب وہ مجھ سے دُعا کریں گے تو میں قبول فرما لُوں گا۔([1])
بندوں کو کسی وقت بھی دِل سے نہ بھلایا ہے اُمّتِ عاصی پہ عجب پیار تمہارا
اُمَّت بھی تمہاری ہوئی اللہ کو پیاری اللہ سے وہ پیار ہے سرکار تمہارا