Share this link via
Personality Websites!
رہی ہے ، آئیے ! حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے فرمان پر عَمَل کرتے ہوئے تَوبَہ کر لیتے ہیں ، آج تک جتنے گُنَاہ ہوئے ، ان سب سے سچّی پکی تَوْبَہ بھی کریں ، توبہ کے تقاضے بھی پُورے کریں یعنی قضا نمازیں ذِمّے ہیں تو ادا کر لیں ، روزے قضا ہیں تو رکھ لیں ، کسی کا کوئی حق دینا ہے تو ادا کر لیں ، کسی کی دِل آزاری ہو گئی ہو تو معاف کروا لیں اور توبہ کر کے اچھی ، نیکیوں والی زِندگی گزارنا شروع کریں۔
توبہ کے فضائل پر 2 احادیث
( 1 ) : اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَہٗ یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اُس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ ( [1] ) ( 2 ) : ایک حدیثِ مبارکہ میں ہے : جب بندہ اپنے گناہو ں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ پاک گُناہ لکھنے والے فرشتوں کواسکے گُناہ بھلادیتا ہے ، اسی طرح اس کے اعضا ( یعنی ہاتھ پاؤں ) کو بھی بھلا دیتا ہے اور اس کے زمین پر نشانات بھی مٹا ڈالتا ہے ۔یہاں تک کہ قیامت کے دن جب وہ اللہ پاک سے ملے گا تو اللہ پاک کی طرف سے اس کے گناہ پر کوئی گواہ نہ ہوگا۔ ( [2] )
3 شوال المکرم ، 545 ہجری ، ہفتے کا دِن تھا ، حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے صبح کے وقت بیان فرمایا ، اس بیان مبارک میں غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ایک بہت ہی پیاری بات
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami