Share this link via
Personality Websites!
کہ آپ نے بیان فرمایا ہو اور محفل میں سے کسی نے توبہ نہ کی ہو۔ آپ کا بیان سُن کر لازمی کوئی نہ کوئی شخص توبہ کرتا غیر مسلم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتے تھے ( [1] ) * غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ خود فرماتے ہیں : میرے ہاتھ پر 5 ہزار سے زیادہ غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ گنہگاروں نے توبہ کی۔ ( [2] )
بیاں سُن کے توبہ گنہگار کر لیں زباں میں وہ دیدو اَثَر غوثِ اعظم !
غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اور کمالِ اِخْلاص
بَہَجَّۃُ الْاَسْرَار شریف میں ہے : حُضُور غوثِ اعظم شیخ عبد القادِر جیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے شہزادے شیخ عبدُ الوہاب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے دُور دراز سَفَر کیا ، کافِی عرصہ تک آپ عِلْمِ دِین سیکھتے رہے ، جب عِلْمِ دِین سیکھ کر بغداد شریف واپس آئے تو ایک روز آپ نے اپنے والِدِ محترم حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت میں عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ مَیں آپ کی موجودگی میں بیان کروں۔ غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اجازت عطا فرمائی ، چنانچہ جب محفلِ پاک سجی ، لوگ جمع ہو گئے ، شیخ عبد الوہاب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : مَیں نے بیان شُروع کیا ، والِدِ محترم حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بھی تشریف فرما تھے ، میں نے بہت سارے علمی نکات بیان کئے ، اپنے طَور پر بہت اعلیٰ خطاب کیا مگر عجیب بات تھی ، اتنی اعلیٰ علمی گفتگو سُن کر بھی نہ کسی کا دِل نرم ہوا ، نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلے۔
خیر ! میں نے اپنا بیان مکمل کیا ، اب والِدِ محترم حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہم نبر پر تشریف لائے ، آپ نے بیان شروع کیا ، آپ نے صِرْف اتنا ہی کہا : کُنْتُ صَائِمًا اَمْشِ کل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami