Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

عَلِیًّا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ فَقَدْ اَحَبَّ اللہ یعنی جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ  پاک سے محبت کی ، وَمَنْ اَبْغَضَ عَلِیّاً فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَنِیْ فَقَدْ اَبْغَضَ اللہَ یعنی جس نے علی سے بُغض رکھا اس نے مجھ سے بُغض رکھا اور جس نے مجھ سے بُغض رکھا اُس نے اللہ  پاک سے بُغض رکھا ۔ (معجم کبیر ، ابوطفیل عن ام سلمۃ ، ۲۳ / ۳۸۰ ، حدیث : ۹۰۱)

 ارشاد فرمایا : مَنْ سَبَّ عَلِیًّا فَقَدْ سَبَّنِیْ یعنی جس نے علی کو بُرا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو بُرا کہا۔ ( السنن الکبری ، کتاب الخصائص ، باب قول النبی من سب…الخ ، ۵ / ۱۳۳ ، حدیث : ۸۴۷۶)

 پیارے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ حضرت  عَلِیُّ المُرْتَضیٰ ، شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ کو حضورِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی ، اللہ  پاک ہمیں  مولیٰعَلِیُّ المُرْتَضیٰ ، شیرِ خدا  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ اور تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِضْوَان کا ادب و احترام کرنے اور ان کی شان وعظمت کو اپنے دلوں میں بٹھانے  کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                            صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

علی المرتضیٰ کا علمی مقام

 پیارےاسلامی بھائیو!اَمِیرُ المُومِنین حضرت  عَلِیُّ المُرْتَضیٰ ، شیرِ خدا  کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم   کے ذاتی و اخلاقی اوصافِ کریمہ ، اخلاقِ حسنہ ، زندگی گزارنے کے انداز ، دن رات عبادات کرنے کا شوق و جذبہ ، تقویٰ و پرہیز گاری ، آپ کی بے پناہ علمی خدمات اور اس طرح کے بے شمار اوصاف اور