Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly
امانت واپس دلائیں ، بالآخر سب کے اصرار پر عورت نے وہ 100 دینار اس کو دے دئیے ، ایک سال گزرنے کے بعد دوسرا شخص آیا اور اپنی رقم کا مطالبہ کرنے لگا ، عورت نے کہا تیرا ساتھی میرے پاس آیا تھا اور اس نے تیرے بارے میں یہ بتایا کہ تُومر چکا ہے ، لہٰذا میں وہ سارے دِینار اسے دے چکی ہوں۔ بہرحال یہ مُقدّمہ پہلے حضرت عمر بِن خطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس پیش کیا گیا ، مگر عورت کی گزارش پر آپ نے اُن دونوں کوحضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس بھیج دیا ، عورت کی زبانی واقعے کی تفصیلات سُن کر آپ نے بھانپ لیا کہ دونوں ساتھیوں نے مل کر عورت کو فریب دیا ہے ، آپ نے اس شخص سے فرمایا : کیا تم دونو ں ساتھیوں نے اس عورت سے یہ نہیں کہا تھا کہ جب تک کہ ہم دونوں ایک ساتھ نہ آئیں ، ہم میں سے کسی ایک کو وہ دینار نہیں دینا؟اس نے کہا : جی ہاں ہم نے یہی بات طے کی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا مال ہمارے ذمہ ہے ، جاؤ !اپنے ساتھی کو لے کر آؤ تاکہ ہم تمہاری امانت تمہیں ادا کردیں۔ (کتاب الاذکیاء ، الباب الثامن ، ص۳۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حکایت سے معلوم ہوا کہ اَمِیْرُ المُومِنین حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ ، شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اللہ پاک نے بے پناہ علم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قسم کی ذہنی صلاحیتوں سے بھی نوازا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی ذہانت سے اُس عورت کو دو آدمیوں کے مکر و فریب کی وجہ سے پہنچنے والے مالی نقصان سے بچا لیا۔
یاد رہے کہ حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی ذات ِ گرامی بہت سے کمالات اور خوبیوں کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے ، مثلاً آپ شیرِ خدا بھی ہیں اور دامادِ مُصْطَفٰے بھی۔ حیدرِ کرّار بھی ہیں اور صاحبِ سخاوت بھی ، صاحبِ شجاعت بھی ہیں اور عبادت و ریاضت والے بھی ، فصاحت و بلاغت والے