Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

کمالات آپ کی ذات سے وابستہ ہیں ، آپ کے علمی کارنامے انتہائی حیرت انگیز ہیں ، بڑے بڑے فقہائے کرام اور مفتیانِ عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلامُ علم کے معاملے میں حضرت  عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ کے محتاج نظر آتے ہیں یہی نہیں بلکہ اِس علم کی بدولت آپ کی شان و شوکت فقہائے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِضْوَان میں بھی معروف و مشہور تھی۔ جی ہاں!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِضْوَان کے نزدیک بھی آپ کا مقام و مرتبہ بہت ہی  بلند و بالا تھا۔ آئیے آپ  کی علمی شان کے بارے میں بعض صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِضْوَان کے  اقوالِ مبارکہ سُننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ

صحابۂ کرام کے نزدیک علمی مقام

 حضرت  عَبْدُاللہ بِن عبَّاس رَضِیَ اللہُ  عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰرَضِیَ اللہُ  عَنْہُ سے کسی مسئلے کے بارے میں پوچھا تو ہمیشہ درست ہی جواب پایا۔ * حضرت  عَبْدُ اللہ بِن مسعود رَضِیَ اللہُ  عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اہلِ مدینہ علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ سے فیصلے کراتے تھے *  حضرت سعید بِن مسیّب رَضِیَ اللہُ  عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  کے علاوہ کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ جو کچھ پوچھنا ہو مجھ سے پوچھ لو۔ (اسد الغابۃ ، علی بِن ابی طالب ، علمہ  رضی اللہ عنہ ، ۴ / ۱۰۹)* اسی طرح حضرت  عَلِیُّ المُرْتَضیٰ  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  کی اعلیٰ علمی صلاحیت اور شرعی مسائل میں بھر پور قابلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ  عَنْہَا جیسی عظیم عالمہ جو کہ اپنے والدِ محترم حضرت صِدِّیقِ اَکبر رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ کے زمانۂ خِلافت سے  ہی مُستقِل طور پر اِفتاء کے مَنصَب پر فائز ہو چکی تھیں اور جنہیں علمِ قرآن ، علمِ میراث ، علمِ طِبّ ، حلال و حرام ، شعر ، اَقوالِ عرب ، علمِ نسب وغیرہ میں مہارت حاصل تھی ایسی زبردست علمی صلاحیت والی ہستی کے سامنے ایک مرتبہ حضرت  عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  کا ذِکر ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ  عَنْہَا نے فرمایا کہ عَلِیُّ المُرْتَضیٰ  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ احادیث کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء ، علی بِن ابی طالب ، ص۱۷۱)