Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly
پیارے اسلامی بھائیو!ابھی ہم نے حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے روشن فیصلوں کے بارے میں جو ایمان افروز واقعات سُنے ، اُن سے آپ کی قوتِ فیصلہ کی شان و عظمت خُوب ظاہر ہوتی ہے کہ جس مقدمے کا فیصلہ کرنا دوسروں کے بس سے باہر ہوجاتا ، اس کا فیصلہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نہایت آسانی سے کرلیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو فیصلہ کرنے کی یہ خدا داد صلاحیت ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارک دُعاؤں کے صدقے میں نصیب ہوئی تھی ۔ جیساکہ
فیصلہ کرنے میں کبھی دشواری نہ ہوئی
اَمِیْرُ المُومِنین حضرتعَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجاتو میں نے عرض کی : یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ مجھے یمن بھیج رہے ہیں ، اہلِ یمن میرے پاس مقدَّمات کا فیصلہ کروانے آئیں گے حالانکہ مجھے اس کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ حضورِ اكرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : قریب ہوجاؤ ، میں قریب ہوگیا پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور میرے حق میں دُعا فرمائی : اے اللہ !اس کے دل کو روشن فرمادے اور اس کی زبان میں تاثیر عطا فرمادے ، (آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں)قسم ہے! اُس ذات کی جو چھوٹے سے بیج سے بڑا درخت پیدا کرتا ہے ، اِس دُعا کے بعد سے میں دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی شُکوک و شُبہات میں مبتلا نہ ہوا۔ (اسد الغابۃ ، علی بِن ابی طالب ، علمہ رضی اللہ عنہ ، ۴ / ۱۰۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد