Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرام کے اِن فرامین کی روشی میں معلوم ہوا کہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی عظیم الشان ذہانت اور معاملات کو سمجھنے کی بھرپور صلاحیت کا ہر ایک کو اعتراف تھا ، بلکہ خلیفۂ دوم حضرت عمر بِن خطاب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ جو کہ خود بھی بہت ماہر قاضی تھے بلکہ اُمّت کے سب سے پہلے قاضی بھی آپ تھے اور لوگوں کے اختلافات کے حل کے لئے شہروں میں قاضی مقرر کرنے کے باقاعدہ نظام کی بنیاد بھی آپ نے ہی رکھی تھی۔ (الاوائل للعسکری ، ص۳۵۷) مگر اتنے بڑے قاضی ہونے کے باوجود آپ اپنے دورِ خلافت میں بعض اوقات حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی موجودگی کے بغیر کوئی فیصلہ ہی نہیں فرماتے تھے۔ حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی نظر میں حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا جو مقام و مرتبہ تھا اسے آپ نے ایک موقع پر ان الفاظ سے بیان فرمایا : عَلِیٌّ اَقْضَانَا یعنی حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ہم میں سب سے بڑے قاضی ہیں۔ (مسند امام احمد ، مسند الانصآر ، ۸ / ۶ ، حدیث : ۲۱۱۴۳)
خود نبیِ کریم ، رءوف رَّحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی آپ کو سب سے بڑا قاضی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میری اُمّت میں سب سے بڑے قاضی علی بن ابی طالب ہیں۔ (ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ، فضائل خباب ، ۱ / ۱۰۲ ، حدیث : ۱۵۴ملتقطاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد