Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly
شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کےنام سے جانتی ہے اور تہہِ دل سے آپ کی نیک نامی اور عظمت کو مانتی ہے۔ آئیے رمضانُ المبارک میں آپ کے یومِ ولادت کی مُناسبت سے آپ کا کچھ ذِکر خیر سُنتے ہیں :
تعارفِ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
شیخ طریقت ، امیر اہلسنت ، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ 26رَمَضَانُ المُبَارک 1369ھ بمطابق 1950ء میں پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ کراچی میں پیدا ہوئے۔ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے آباء و اجداد ، ہند کے گاؤں “ کُتیانہ(جُوناگڑھ) “ میں مقیم تھے۔ آپ کے دادا جان عبدالرحيم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی نيک نامی اورپارسائی پورے “ کتیانہ “ ميں مشہور تھی۔ جب پاکستان مَعْرِضِ وُجود میں آیا تو امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے والدین ماجِدَیْن ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ ابتدا میں بابُ الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدرآبادمیں قِیام فرمایا۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد بابُ الْمدینہ(کراچی)میں تشریف لائے اور یہیں سُکُونَتْ یعنی رہائش اختیار فرمائی۔
آپ کو علمِ دین حاصل کرنے کا بے حد شوق و جذبہ تھا ، یہی وجہ ہے کہ آپ دورِ جوانی ہی میں علومِ دِینیہ کے زیور سے آراستہ ہوچکے تھے۔ آپ نے حصولِ علم کے ذرائع میں سے کتب بینی اور علمائے کرام کی صحبت کو اختیار کیا۔ اس سلسلے میں آپ نے سب سے زیادہ استفادہ مُفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مُفتی وقارُالدین قادِری رَضَوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے کیا اور مسلسل 22سال آپ کی صحبتِ بابَرَکت سے فیض حاصل کرتے رہے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اپنی خلافت واجازت سے بھی نواز دیا ۔