Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly

فاروقِ اعظم کی نظر میں مولیٰ مشکل کُشا کی اہمیت

ایک مرتبہ حضرت  عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ  عَنْہ کے سامنے ایک ایسی عورت پیش کی گئی جو شرعی گواہوں اور ثُبوتوں  کی روشنی میں مجرم قرار پائی تو حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  عَنْہ نے اس عورت کے لئے شریعت کے مطابق فیصلہ بیان فرما دیا مگر اتفاق سے اُس مسئلے کے ایک خاص پہلو کی طرف حضرت  عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  کی توجہ نہ رہی۔ جب حضرت  علی المرتضی رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نے اس پہلو کی طرف توجہ دلائی تو حضرت  عمر بِن خطاب رَضِیَ اللہُ  عَنْہ نے اپنا فیصلہ واپس لیا اور فرمایا : لَوْ لَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ یعنی اگر حضرت علی رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔                                                     (الاستیعاب ، باب حرف العین ، ۳ / ۲۰۶ملخصاً)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

میں وہاں نہ رہوں جہاں مولا علی نہ ہوں

حضرت  ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ حج کے لیے تشریف لے گئے ، آپ نے طواف ِکعبہ کرتے ہوئے حجرِ اسود کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تُو صرف ایک پتھر ہے جو نہ تو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور اگر میں نے دو عالم کے مالِک و مختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تجھے چُومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی کبھی تجھے نہ چومتا۔ پھر آپ نے اسے بوسہ دیا۔ یہ سن کر مولا علی شیرِخدا رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نے عرض کیا : اے امیر المومنین! بے شک یہ پتھر نفع بھی دیتا ہے اور نقصان بھی۔ فرمایا : وہ کیسے؟ عرض کیا : بے شک میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ میں نے رسولِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے سنا کہ کل بروزِ قیامت حجرِ اسود کو لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کی ایک زبان ہوگی جس کے ذریعے وہ گواہی دے گا کہ فلاں شخص نے اسے ایمان کی حالت میں بوسا دیا ہے۔ اے امیر المومنین!یہی اس کا نقصان اور نفع دینا ہے۔ یہ سُن کر امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالحسن! میں اللہ   پاک سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسی قوم میں رہوں جس میں آپ نہ ہوں۔ (شعب الایمان للبیھقی ، باب فی المناسک ، فضیلۃ حجر الاسود ، ۳ / ۴۵۱ ، حدیث : ۴۰۴۰ ملتقطاً)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد