Book Name:Shair e Khuda Kay Roshan Faisly
بھی ہیں اور علم والے بھی ، الغرض آپ بہت سے کمالات و خوبیوں کے جامع ہیں اور ہر ایک کمال و خوبی میں ایک منفرد اور نُمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آئیے آپ کی سیرتِ مبارکہ کے ذکرِ خیر سے کچھ برکتیں حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
آپ کا نام’’علی بِن ابی طالب‘‘اور کنیت’’ابوالحسن “ بھی ہے اور “ ابو تُراب ‘‘بھی۔ آپ حضورِ اکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے اور حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ کی والدہ محترمَہ کا اسم گرامی “ فاطمہ بنت ِ اسد بِن ہاشم “ ہے جنہوں نے اسلام قبول کیا ، ہجرت کی اور مدینہ میں وفات پائی۔ (معرفۃ الصحابۃ ، معرفۃ نسبۃ علی بِن ابی طالب ، ۱ / ۹۵ ، ملخصا)
آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا قبولِ اسلام
اَمِیْرُ المُومِنین حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے کم عمری ہی میں اسلام قبول فرمالیا تھا جیساکہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت ، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اسلام لائے اُس وقت آپ کی عمر 8 ، 10 سال تھی۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۸ / ۴۳۴ ، مفہوما)
نبی اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عَلِیُّ المُرْتَضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی ایسی شان و عظمت بیان فرمائی کہ اِن سے محبت کرنا اللہ پاک سے محبت کرنا اور ان سے دشمنی کرنا اللہ پاک سے دشمنی مول لینا قرار دیا ۔ چُنانچہ
حضرت اُمِ سلمہرَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مَنْ اَحَبَّ